سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 136 of 900

سیر روحانی — Page 136

۱۳۶ آمادہ ہو گیا ، اُس وقت اسلامی جرنیلوں نے یہ فیصلہ کیا کہ کچھ علاقے چھوڑ کر پیچھے ہٹ جانا چاہئے مگر اُن علاقوں کے لوگوں سے چونکہ انہوں نے ٹیکس اور جزیے وصول کئے ہوئے تھے اور اس ٹیکس اور جزیہ کے وصول کرنے کی غرض یہ ہوا کرتی ہے کہ اسی روپیہ کو خرچ کر کے لوگوں کی جان و اموال کی حفاظت کی جائے۔اس لئے جبکہ وہ ان علاقوں سے واپس جا رہے تھے انہوں نے سمجھا کہ اگر ہم نے ان کے ٹیکس انہیں واپس نہ کئے تو یہ ظلم ہوگا ، چنانچہ انہوں نے تمام شہر والوں کو ان کا جزیہ واپس دیدیا اور کہا کہ اب ہم واپس جا رہے ہیں اور چونکہ تمہاری حفاظت نہیں کر سکتے اس لئے ہم تمہارا ٹیکس تمہیں واپس دیتے ہیں۔اس واقعہ کا یروشلم کے عیسائیوں پر ایسا اثر ہوا کہ باوجود اس کے کہ مسلمانوں کے مقابلہ میں عیسائی بادشاہ تھا اور باوجود اس کے کہ وہ اُسے لاکھوں روپیہ بطور نذرانہ دیا کرتے تھے جس وقت صحابہ کا لشکر یروشلم کو چھوڑنے لگا تو عورتیں اور مرد چھینیں مار مار کر روتے تھے اور دعائیں کرتے تھے کہ خدا تعالیٰ آپ لوگوں کو پھر اس جگہ واپس لائے۔دنیا کی کسی تاریخ میں اس قسم کی مثال ڈھونڈ نے پر بھی نہیں مل سکتی کہ کوئی قوم اُس وقت جبکہ وہ کسی علاقہ کو خالی کر رہی ہو لوگوں کو اُن کے وصول شدہ ٹیکس واپس دے دے بلکہ آجکل تو ایسی حالت میں لوگوں کو اور زیادہ لوٹ لیا جاتا ہے۔اسی طرح شر سے روکنے کی مثالیں تو اور بھی بہت سی ہیں مگر میں وہ مثالیں دینا چاہتا ہوں جن کو سب دنیا مانتی ہے حتیٰ کہ مسلمانوں کے دشمن بھی تسلیم کرتے ہیں۔شراب اور جوئے کی ممانعت چنانچہ ایک مثال میں جوئے کی پیش کرتا ہوں اس سے اسلام نے روکا ہے۔اسی طرح شراب سے اسلام نے کی بڑی سختی سے روکا ہے کیونکہ شراب بھی بڑی خرابیوں کا موجب ہوتی اور اس سے انسان کی عقل ماری جاتی ہے چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ ان کے شر اور فساد کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے۔إِنَّمَا يُرِيدُ الشَّيْطنُ اَنْ يُوقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَاءَ فِي الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ وَيَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللهِ وَعَن الصَّلاةِ فَهَلْ أَنْتُمْ مُنْتَهُونَ ٣ فرمایا ہم نے شراب اور جوئے سے تمہیں روکا ہے مگر جانتے ہو ہم نے کیوں روکا ہے؟ اس لئے کہ ان کے ذریعہ فساد پیدا ہوتا ہے اور یہ چیزیں ذکر الہی اور عبادت کی بجا آوری میں روک بنتی ہیں اس طرح آپس میں عداوت اور بغض پیدا ہوتا ہے۔آج تمام یورپ اس امر کو تسلیم کرتا ہے کہ شراب بُری چیز ہے اور یوروپین مدبر چاہتے ہیں کہ شراب نوشی روک دیں مگر وہ اپنی کوششوں میں کامیاب