سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 132 of 900

سیر روحانی — Page 132

۱۳۲ ایک صحابی سے ایک دفعہ کسی نے کہا کہ آجکل بنوامیہ کی حکومت ہے تم کوئی بات نہ کرو، اگر وہ اس حکومت کے ارکان تک پہنچ گئی تو تمہیں نقصان ہوگا۔وہ فرمانے لگے مجھے اس کی پر واہ کی نہیں ، میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہو ا ہے کہ اگر کسی کو کوئی سچی بات معلوم ہو اور اُس کی گردن پر تلوار رکھی ہوئی ہو تو اسے چاہئے کہ تلوار چلنے سے پہلے جلدی سے حق بات اپنے منہ سے نکال دے۔تو ہدایت کے پہنچانے میں صحابہ نے ایسا کمال دکھایا تھا کہ اس کی نظیر اور کہیں نظر نہیں آتی۔مسلمانوں کا اذانیں دینا ، خطبے پڑھانا سب اس کے ماتحت ہے کیونکہ ان ذرائع سے بھی حق کی بات دوسروں تک پہنچتی اور اُن کو ہدایت اور راہنمائی حاصل ہوتی ہے۔پھر صحابہ دوسروں کو ہدایت دینے میں جس سرگرمی اور انہماک سے کام کیا کرتے تھے اس کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ انہوں نے اپنی ساری عمر دین سکھانے میں لگا دی۔اور اتنی حدیثیں جمع کر دیں کہ آج اگر ان کو جمع کیا جائے تو پختاروں کے پشتا رے لگ جائیں۔آجکل تحریر کا زمانہ ہے اور روایات بڑی آسانی سے محفوظ ہو سکتی ہیں مگر مجھے افسوس ہے کہ ہماری جماعت کے صحابہ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی روایات جمع کرنے میں وہ کوشش نہیں کی جو صحابہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے احادیث کے جمع کرنے میں کی تھی۔کئی صحابہ ہیں جنہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کئی واقعات معلوم ہیں مگر ابھی تک وہ ان کے سینوں میں ہی ہیں اور انہوں نے ظاہر نہیں کئے ، اسی طرح کئی تابعین ہیں جنہوں نے کئی صحابہ سے روایات سنی ہوئی ہیں، ان کا بھی فرض تھا کہ وہ ایسی تمام روایات کو ضبط تحریر میں لے آتے مگر مجھے افسوس ہے کہ، اس کی طرف پوری توجہ نہیں کی گئی حالانکہ چاہئے تھا کہ وہ رات دن ایسی باتیں سناتے رہتے تا کہ وہ دنیا میں محفوظ رہتیں۔صحابہ رسول اکرم نے یہ کام کیا اور ایسی عمدگی سے کیا کہ آج حدیثوں کی سو دو سو جلدیں پائی جاتی ہیں، یہ ان کی ہدایتِ عام کی سند اور هُدًى لِلْعَلَمِینَ ہونے کا ایک بین ثبوت ہے۔انصار اور مہاجرین کی باہمی مؤاخات (۴) مساجد کا چوتھا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کو جمع کرنے کے لئے بنائی جاتی ہیں، یہ کام بھی انبیاء کی جماعتیں کیا کرتی ہیں۔جس طرح مسجد کہتی ہے کہ آجاؤ عبادت کی طرف ، یہی حال انبیاء کی جماعتوں کا ہوتا ہے اور وہ سب لوگوں کے لئے اپنے دروازے کھول دیتی ہیں اور کہتی ہیں کہ ہماری طرف آ جاؤ۔چنانچہ قرآن کریم میں صحابہ کے ایک حصہ کے متعلق اللہ تعالیٰ