سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 113 of 900

سیر روحانی — Page 113

۱۱۳ اسلامی شریعت کے ماتحت قاضی کے پاس مقدمہ جائیگا اور وہ اس کی لیاقت اور قابلیت کو دیکھ کر اور یہ اندازہ لگا کر کہ وہ ماہوار کتنا کما سکتا ہے اس کے ذمہ ایک رقم مقرر کر دیگا اور پھر اس کے ماہوار گزارے کو منہا کر کے مطالبہ کرے گا کہ اتنی رقم ماہوار تم تاوان کے طور پر ادا کرتے چلے جاؤ۔اس طرح وہ اقساط کے ذریعہ تاوان ادا کرتا رہے گا مگر مجزوی آزاد وہ اسی دن سے ہو جائے گا جس دن وہ قاضی کے سامنے یہ اقرار کریگا۔اگر ادائیگی رقم سے پہلے وہ شخص فوت ہو جائے تو اس کا بقیہ مال اور ترکہ آقا کومل جائے گا اور اگر وہ زندہ رہے گا تو اس فیصلہ کے ماتحت وہ اپنی رقم ادا کرنے پر مجبور ہوگا۔غرض اسلامی جنگوں کے ماتحت جب بھی غلام گرفتار ہو کر آئیں گے انہیں یا تو ہمیں خود چھوڑ دینا ہوگا یا ہمیں حکم ہوگا کہ ہم تاوان وصول کریں۔اگر اس کے بھائی بند اور رشتہ دار اس وقت آزادی کی قیمت ادا کریں تو وہ اس وقت آزاد ہو جائے گا اور اگر اس کے رشتہ دار غریب ہوں یا وہ فدیہ ادا کرنا پسند نہ کریں تو وہ مکاتبت کا مطالبہ کرنے کا حق دار ہوگا اور مسلمان قاضی کا فرض ہوگا کہ وہ اُس کی حیثیت کے مطابق اس پر فدیہ عائد کرے اور پھر اس کا گزارہ مقرر کر کے مناسب رقم ماہوار بطور فدیہ آزادی ادا کرنے کا اُسے حکم دے۔جب یہ عہد و پیمان تحریری طور پر ہو جائے گا تو اس دن سے ہی وہ اپنے اعمال کے لحاظ سے آزاد ہو جائے گا۔اب دیکھو اس تعلیم کے ہوتے ہوئے کیا کوئی شخص بھی اپنی مرضی کے خلاف غلام رہ سکتا ہے؟ جب بھی کوئی غلام آئے گا ہم اس بات کے پابند ہونگے کہ یا تو اُسے خود آزاد کر دیں یا وہ فدیہ ادا کر کے آزاد ہو جائے اور اگر اس کی طاقت میں یہ بات نہ ہو تو اس کے بیوی بچے اور رشتہ دار فدیہ ادا کر دیں اور اگر وہ بھی ادا نہ کر سکتے ہوں تو قاضی کے پاس جا کر فدیہ ادا کرنے کا اقرار کرے اور قاضی ادائیگی کی جو صورت تجویز کرے اُس پر عمل کرے، ان تمام صورتوں میں وہ آزاد ہو جائے گا۔اور اگر کوئی شخص ان شرائط میں سے کسی شرط سے بھی فائدہ نہیں اُٹھاتا تو اس کے معنے یہ ہیں کہ وہ اپنے آپ کو غلام نہیں سمجھتا بلکہ گھر کا ایک فرد سمجھتا ہے اور عرفِ عام کی رو سے آزاد ہونے کو پسند ہی نہیں کرتا۔ممکن ہے کوئی کہہ دے کہ یہ کیسے ہو سکتا حضرت زید کا اپنی آزادی پر محمد رسول اللہ ہے کہ کوئی شخص دوسرے کے گھر کو اپنے صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی کو ترجیح دینا گھر سے بہتر قرار دے اور کسی شرط پر بھی آزاد ہونا پسند نہ کرے سو اس کے