سیر روحانی — Page 104
۱۰۴ نہیں جو مسجد میں ایک غلام سے بھی یہ کہہ سکے کہ یہاں مت کھڑے ہو تم وہاں جا کر کھڑے ہو بلکہ اسلام میں یہ مساوات اس حد تک تسلیم کی جا چکی ہے کہ بنوامیہ کے زمانہ میں جب بادشاہوں نے ظلم کرنے شروع کر دیئے تو پہلے تو مسجد میں جب بادشاہ آتا تو تعظیم کے طور پر لوگ اس کے لئے جگہ چھوڑ دیتے مگر بعد میں وہ اپنی جگہ پر ہی بیٹھے رہتے اور جب نوکر کہتے کہ جگہ چھوڑ دو تو وہ کہتے کہ تم ہمیں مسجد سے اُٹھانے والے کون ہو مسجد خدا کا گھر ہے اور یہاں امیر اور غریب کا کوئی امتیاز نہیں۔آجکل کا زمانہ ہوتا تو بادشاہ نوکروں سے لوگوں کو پٹوانا شروع کر دیتے مگر اُس وقت اسلام کا اس قدر رُعب تھا کہ بنوامیہ نے مسجد کے باہر مُجرے بنائے اور وہاں نماز پڑھنا شروع کر دی مگر یہ جرات نہ ہوئی کہ مسجد میں آ کر لوگوں کو اُٹھا سکیں۔تو مسجد وُضِعَ لِلنَّاسِ ہوتی ہے اور اس کے دروازے تمام بنی نوع انسان کے لئے کھلے ہوتے ہیں۔کالے اور گورے کی اس میں کوئی تمیز نہیں ہوتی ، چھوٹے اور بڑے کا اس میں کوئی فرق نہیں ہوتا ، بلکہ ہر ایک کا مسجد میں مساوی حق تسلیم کیا جاتا ہے۔غرض مسجد کا ایک فائدہ یہ ہے کہ وہ بنی نوع انسان میں مساوات پیدا کرتی ہے۔(۲) تقدس اور ذکر الہی کا مرکز دوسری غرض مسجد کی اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمائی ہے مُبَارَكاً وہ مقامِ مبارک ہوتا ہے۔میں مسجد کے مقامِ مبارک ہونے کی اور مثالیں دیدیتا ہوں۔(الف) مسجد اس لئے مقامِ مبارک ہوتا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے ذکر کے لئے مخصوص ہوتی ہیں، باقی گھروں میں تو اور کئی قسم کے دنیوی کام بھی کر لئے جاتے ہیں مگر وہاں دُنیوی کاموں کی اجازت نہیں ہوتی۔یا اگر کئے بھی جائیں تو وہ اتنے قلیل ہوتے ہیں کہ ان کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی۔جیسے مسجد میں اگر کوئی غریب شخص رہتا ہو تو اُسے اجازت ہے کہ مسجد میں بیٹھ کر کھانا کھالے مگر بہر حال زیادہ تر کام مساجد میں یہی ہوتا ہے کہ وہاں ذکر الہی کیا جاتا ہے۔اور درود پڑھا جاتا ہے اور دعائیں کی جاتی ہیں اور اس طرح اس مقام پر اللہ تعالیٰ کی برکتیں نازل ہوتی ہیں۔(ب) پھر مساجد اس لحاظ سے بھی مقامِ مبارک ہوتی ہیں کہ وہ پاکیزگی کا مقام ہوتی ہیں اور یہ اجازت نہیں ہوتی کہ وہاں گند پھینکا جائے ، مثلاً پاخانہ پیشاب کرنے ، تھوکنے یا بلغم پھینکنے کی اجازت نہیں ہوتی۔اسی طرح حکم ہے کہ گندگی اور بد بو دار چیزیں کھا کر مسجد میں مت آؤ۔نجنبی کا مسجد میں آنا بھی منع ہے۔پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ یہ ہدایت دیا کرتے تھے