سیلابِ رحمت — Page 42
سیلاب رحمت پوری کوشش کی۔یہ حسین نقش عمر بھر ساتھ رہے۔فجز اھم اللہ تعالیٰ احسن الجزاء۔شادی کے بعد 1964 ء میں کراچی آئی۔اس وقت رہائش جامع کلاتھ مارکیٹ کے بالمقابل عید گاہ میدان کے عقب میں تھی جو حلقہ سعید منزل کہلاتا تھا۔احمد یہ ہال قریب تھا۔اکثر جانا رہتا۔کراچی لجنہ نے کھلی بانہوں سے استقبال کیا۔اس وقت تک میں مرکزی عاملہ میں شامل تھی۔یہی میرا تعارف بنا۔احمد یہ ہال میں ایک استقبالیہ تقریب ہوئی جس میں بہت سی مقتدر ہستیوں سے ملاقات ہوئی۔مکرمہ سرور عبد المالک صاحبہ، مکرمہ مجیدہ شاہنواز صاحبہ مکرمه جمیله عرفانی صاحبہ، مکرمہ شوکت گوھر صاحبہ خاص طور پر محبت سے پیش آئیں۔یہ خلوص صرف لجنہ کے کام سے حاصل ہوا ، ورنہ میں کس کھیت کی مولی تھی؟ پہلی عید پر بہت سی جان پہچان کی خواتین سے ملاقات ہوئی۔اس زمانے کی عید میں بہت یاد آتی ہیں۔کراچی کے وسطی علاقے گاندھی گارڈن کے چڑیا گھر میں ایک میدان میں جماعت کو جگہ ملتی جس میں بہت صبح عید پڑھ کر میدان خالی کرنا ہوتا۔ہم منہ اندھیرے عید گاہ پہنچتے۔یہاں بہت سی خواتین سے غائبانہ تعارف اس طرح تھا کہ ناصرات کا کام کرتے ہوئے کراچی سے آنے والے پرچوں کی چیکنگ میں بچوں اور ناصرات کی سیکرٹریان کے نام نظر سے گزرتے اور خط و کتابت بھی ہوتی رہی تھی۔اسی طرح اجتماعات پر آنے والے گروپ شناسا ہو گئے تھے۔کچھ واقفیت مصباح میں لکھنے والوں سے تھی۔اس طرح کراچی لجنہ میں آکر کوئی اجنبیت محسوس نہ ہوئی۔1964ء سے 1980ء تک ناصر صاحب کی لاہور اسلام آباد اور کراچی میں ٹرانسفرز کی وجہ سے ایک جگہ مستقل رہنا ممکن نہ ہو سکا۔پھر اس اثنا میں ماشاء اللہ پانچ بچوں کی پیدائش اور پرورش کے مرحلے رہے۔گھریلو ذمہ داریوں نے اس طرح پکڑے رکھا کہ لجنہ سے تعلق 42