سیلابِ رحمت — Page 40
آباد ہوا۔قادیان کا زمانہ تو کم سنی کی وجہ سے زیادہ یاد نہیں البتہ ربوہ کے ابتدائی دنوں میں بچپن کے شب و روز خوب یاد ہیں۔امی جان اور بڑی بہنیں ناصرات اور لجنہ کے کاموں میں سرگرم تھیں اوڑھنا بچھونا لجنہ تھا۔گھروں کے صحنوں میں قرآن پاک پڑھنے والے بچوں کی قطاریں ، رمضان المبارک میں حلقہ باندھ کر قرآن پاک کے درس اور دور، مسجد کے راستوں پر گہما گہمی ، درس اور تراویح کے لئے دوڑیں۔رات صحن میں چھڑکاؤ کے بعد بستر لگ جاتے اور امی سکول شروع ہو جاتا۔صبح بچوں کے خوش الحانی سے درود و سلام پڑھنے کی آوازیں بہت بھلی لگتیں۔ہر مسجد سے اذان کی آوازیں آتیں۔غرضیکہ ایک روح پرور ماحول تھا جس میں غیر محسوس طور پر دینی تعلیمات رگ وپے کا حصہ بن جاتیں۔ناصرات کے اجلاسوں سے چھوٹی چھوٹی تقاریر سیکھیں۔اجتماع کے لئے جھنڈے تیار ہوتے اور رنگ برنگے دوپٹے رنگے جاتے اور پھر ترانہ گاتے ہوئے لجنہ ہال کی طرف جانا عجیب سماں تھا۔میٹرک تک ناصرات میں شمار ہوتا اور کالج میں داخل ہو کر لجنہ میں شامل ہو جاتے۔بڑی بہن مکرمہ امتہ اللطیف صاحبہ لجنہ مرکز یہ میں عہد یدار تھیں۔اپنے ساتھ دفتر لے جاتیں اور کسی نہ کسی کام میں لگائے رکھتیں۔اس طرح لجنہ کے ہر سطح کے عہدے داروں سے تعارف ہو گیا۔اجتماعات اور جلسوں کی تیاری کی مشق بھی ہوگئی۔تعلیم القرآن کلاسز میں حصہ لیا۔قرآن پاک با ترجمہ سکول میں مکرمہ اُستانی میمونہ صوفیہ صاحبہ سے پڑھا۔حضرت اصلح موعود رضی اللہ عنہ کے درس قرآن قصر خلافت کے صحن میں سننے کی سعادت بھی حاصل ہوئی۔جامعہ نصرت سے بی اے اور پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے کیا۔کالج میں پڑھنے اور پڑھانے کے زمانہ میں لجنہ کی خدمات برائے نام ہیں۔1956ء کی گرمیوں میں تعلیم القرآن 40