سیلابِ رحمت — Page 403
دوسری نمایاں بات یہ ہے کہ آپکے تبصرہ میں بھنورے کا سارنگ پایا جاتا ہے۔دور ہی سے دیکھا اور سر لگتا نہیں بلکہ بھنورے کی طرح پر کے دل میں ڈوب کر پردوں میں لیٹی ہوئی شعر اوح سے شناسائی کے بعد لب کشائی کی ہے۔یہ تو میں نہیں کہتا کہ میرے دل کی سب باتوں تک آپ اتر گئیں لیکن یہ ضرور کہہ سکتا ہوں کہ بند کرواؤں دائے گھر کو راستہ چلتے بھر کر نہیں دیکھا بلکہ کواڑ کھول کر اندر سے بھی جائزہ لیا۔ایک ایر بات یہ بھی کہ سکتا ہوں کہ کواڑ کھلوائے نہیں خود کھولے ہیں یعنی آپکی اپنی چابی ہی سے تالے کھل گئے کا جہاں تک اصلاح کے اشاروں کا تعلق ہے ذوق کی لطاقت سے تو انکار نہیں لیکن سر میں جن راہوں سے گزر چکی ہیں ان یلو علم نہیں ہم نے کوئکہ کو ٹکہ رینا دل میں ہے امر مانع رہے کہ اول پس طرح ایک ایک کرکے وٹلے کے ے کوٹے کا تصور ابھر آتا ہے یر کوٹلہ کی تکرار پہلے ہی ہے މ بل جل ئلہ نبوئے ہوئے دل کا تصور پیش کرتا ہے 399