سیلابِ رحمت — Page 375
سیلاب رحمت اس میں اگر زیست پڑھیں گے تو کیا کا کاف اور ی' دونوں زائد ہیں۔کیونکہ فنی نکتہ نگاہ سے اس کا وزن زیستا بنتا ہے۔گویا کاف اوری دونوں زائد ہیں۔لیکن اگر کیا پورا پڑھنا ہو تو پھر زیست کی ت زائد بنتی ہے۔اب یہ دیکھ لیں کہ ماشاء اللہ یہ شعر چوٹی کا ہے لیکن پڑھنے کے انداز کے فرق سے وزن پر اثر پڑتا ہے اور سقم نظر آتا ہے لیکن میرے نزدیک یہ ستم نہیں۔پھر سلیم صاحب کا یہ شعر دیکھیں: ان بہتے آنسوؤں کا ہی تحفہ قبول ہو ہے اس کے پاس کیا جو یہ تیرا غلام ہے اس کے پہلے مصرع میں ظاہر اوزن ٹوٹتا ہے اور بہتے میں زیر پڑھنی پڑتی ہے۔بڑی ے نہیں پڑھی جاسکتی۔یا ساکن یا زیر کے ساتھ الگ سے ت آسکتی ہے نئے کی گنجائش ہی نہیں۔ان کی اس نظم کا اس سے اگلا شعر : پہرے بٹھا دے میری سماعت پہ یا خدا ہی اس کی مثال ہے۔حالانکہ بڑے قادر الکلام ہیں مگر یہ سقم ہے۔اور وزن کے اعتبار سے پہرے میں صرف زیر پڑھنی پڑتی ہے۔اس پہلو سے اگر آپ اپنے کلام پر نظر ڈالیں تو اس میں بھی آپ کو اس کی کئی مثالیں ملیں گی۔صرف کلام کی مجبوریاں سمجھانے کی خاطر ایک آدھ مثال بیان کر دیتا ہوں۔کیا خوب مصرع ہے۔خشک آنکھوں سے نیر بہاؤں چہرے پر مسکان سجاؤں 371