سیلابِ رحمت — Page 181
گہر ا سا سانس لے کر جواب دیا: رکھ لیں گے۔بساری عمر حساب دیتے ہی گزری ہے۔“ میں چونک گئی۔میرے تاثرات یکسر تبدیل ہو گئے۔یہ تو کسی داستان کا عنوان تھا۔یہ آواز کسی سمندر کی تہ سے آئی تھی۔میں انہیں لے کر بیٹھ گئی اور بہت طویل داستان سننے کے بعد جب انہیں خدا حافظ کہا تو انہیں سیلز سیکشن میں انچارج کا عہدہ سنبھالنے کی درخواست کے ساتھ یہ وعدہ لے چکی تھی کہ وہ اپنے خاندان کی احمدیت کے لئے قربانیوں کی ایمان افروز کہانی لکھیں گی۔اس انتہائی پر خلوص، دیانت دار جانباز خاتون سے سالہا سال ساتھ رہا۔کلکتہ کی میمن خاتون پائی پائی کا حساب رکھتیں۔ہر دن کی مکمل رپورٹ اور رقم کی ادائیگی مع رسید درج کرتیں۔اپنے ساتھ کام کرنے والیوں کو شفقت سے کام سکھاتیں۔ان کا اور طیبہ طاہر کالمبا ساتھ رہا اور طیبہ مجھے اس طرح ملی تھی کہ ایک ہمدرد خاتون اسے ہمارے گھر لائیں کہ یہ آجکل کچھ پریشانیوں میں گھری ہوئی ہے۔کسی کام میں لگالیں تا کہ دھیان ہے۔میں نے سیلز سیکشن میں کام کی پیشکش کی جو اس نے قبول کر لی۔پھر ایسی لگن سے کام کیا جیسے پیدا ہی اسی کام کے لئے ہوئی تھی۔آپا رفیعہ اور طیبہ میں ماں بیٹی کا سا پر خلوص تعلق بن گیا۔یہ دونوں اپنی معاونات کے ساتھ کراچی میں اور مسز برکت ناصر صاحبہ کراچی کے علاوہ پاکستان اور بیرون پاکستان فروخت کی ذمہ دار تھیں۔آپس میں پیار محبت اور چھیڑ چھاڑ سے کام کرتی رہتیں۔جس سے شعبہ اشاعت کے دفتر کا ماحول بہت خوشگوار رہتا۔افسوس! کہ آپا رفیعہ صاحبہ بھی 2018ء میں اپنے خالق حقیقی کے حضور حاضر ہو گئیں۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔سوموار اور جمعرات کو سٹال لگانا، نفقد اور ادھار کا حساب رکھنا ہلکی وغیر ملکی آرڈرز پر کتب 179