سیلابِ رحمت

by Other Authors

Page i of 418

سیلابِ رحمت — Page i

سیلات محبت امت الباری ناصر یہ کہانی سبق آموز ہے اور نو واردان بساط خدمت کے لئے قابل تقلید نمونہ بھی۔ہر مرحلہ رہبر اور ہر موڑ راہنما ہے۔کام دشوار اور کٹھن تھا تو خدا تعالی نے اپنے خاص فضل سے آپ کے عزم جوان اور ارادے بلند فرما دیئے۔ناواقفیت اور نا تجربہ کاری در پیش ہوئی تو حضور کی تو جہات کریمانہ اور تلطفات رحیمانہ دستگیر ہوئیں اور ہر مرحلہ پر شفیق آقا نے آپ کی رہنمائی کی اور دعاؤں سے نوازا۔وسائل کا فقدان سد راہ ہوا تو خدا نے کشائش کی راہیں نکال دیں۔کام میں ترقی ہوئی اور کام کرنے والوں کی ضرورت سامنے آئی تو نصرت الہی جلوہ گر ہوئی اور مخلص محنتی اور ایثار پیشہ رفقائے کار میسر ہو گئے جنہوں نے پوری دلسوزی اور عرق ریزی سے معاونت کا حق ادا کیا۔بیرونی رابطوں کی احتیاج واقع ہوئی تو افراد اور ادارے شرح صدر کے ساتھ معاون و مددگار ہوئے۔غرضیکہ یہ سلسلہ بڑا طویل اور دور دراز ہے۔گویا ہمہ وقت خدا تعالیٰ سے فضلوں اور رحمتوں کی موسلا دھار بارش برستی رہی اور سیلاب رحمت کی صورت جلوہ گر ہوئی اور آپ کی تصنیف کی ہر سطر اس سیلاب رحمت کی طرف مشار الیہ ہے۔گودا نہ از انبارے کے حکم میں ہے مگر پڑھنے والے اس سے با آسانی اس نتیجہ پر پہنچ سکتے ہیں کہ جماعت کے کاموں میں رختِ سفر اور زادراہ تقوی ہی ہے۔باقی مولا لبس خدا خود می شود ناصر اگر ہمت شود پیدا خالد مسعود نظارت اشاعت ، ربوه