سفر آخرت

by Other Authors

Page 20 of 84

سفر آخرت — Page 20

20 گئی اس وقت رسول کریم اس کے پاس تشریف لائے آپ نے اس کی آنکھ بند کی اور فرمایا جب روح قبض کی جاتی ہے تو آنکھ اُسکی تابع ہوتی ہے گھر والے رونے لگے تو فرمایا کہ تم اپنے نفسوں پر بجر خیر کے دوسری دعامت کرو کیونکہ فرشتے جو کچھ تم کہتے ہو اس پر آمین کہتے ہیں پھر آپ نے فرمایا اے اللہ ابوسلمہ کو بخش اور اس کا درجہ ان لوگوں میں بلند کر جن کو ہدایت کی گئی ہے اور اس کے پچھلوں میں تو اس کا خلیفہ ہو اور ہم کو اس کو اے رب العلمین بخش اور اس کے لئے اس کی قبر میں فراخی دے اور اس کی قبر میں اس کے لئے روشنی کر۔(مسلم) حضور اکرم م نہایت رقیق القلب تھے اعزہ کی وفات پر آپ کو بہت صدمہ ہوتا تھا آپ ان کے گھروں میں تشریف لے جاتے تھے اور انھیں صبر کی تلقین فرماتے۔۱۴۔میت کو غسل دینے کا طریق میت کے غسل کے سلسلے میں آنحضور نے فرمایا جو شخص میت کو نہلائے اور اس کی پردہ پوشی کرے اللہ تعالٰی اسکی چالیس بار مغفرت کرتا ہے۔(مسلم) اس کا طریق یہ ہے کہ تین بار بدن پر تازہ یا نیم گرم پانی ڈالیں اگر ہو سکے تو بیری کے پتے پانی میں ملانا مسنون ہیں۔پہلے وہ اعضاء دھوئے جائیں جو وضو میں دھوئے جاتے ہیں۔مکلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے یا پاؤں دھونے کی ضرورت نہیں اس کے بعد بدن کے دائیں اور بائیں حصہ پر پانی ڈال کر دھوئیں نہلاتے وقت بدن کے واجب الستر حصہ پر کپڑا پڑا رہنا چاہئے میت مرد کو مرد، میت عورت کو عورت نہلائے اگر کوئی انتظام نہ ہو سکے تو بحالت مجبوری یا بشرط ضرورت بیوی اپنے متوفی شوہر کو اور میاں اپنی متوفیہ بیوی کو نہلا سکتا ہے۔(ابن ماجہ ابواب الجنائز في غسل الرجل امراته و نسل المراة زوجها صفحه ۱۰۵)