سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 425 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 425

۴۲۵ معاملہ میں ان لوگوں کی مدد کی ہے۔تمام قسم کا کوڑا کرکٹ سمندر کی نذر ہو کر سمندر کا نمک اس کو ہضم کر جاتا ہے۔بازار اور دکانات بھی بہت خوبصورت اور فیشن ایبل ہیں۔مکانات بلند مگر ہوا اور روشنی کا پورا لحاظ رکھا گیا ہے۔پانی کے اندر سمندر کے بیچوں بیچ بے شمار جزائر پر شہر کی آبادی مشتمل ہے۔موٹریں نہیں کہ دن رات لوگوں کے امن میں خلل ڈالیں۔گھوڑا گاڑیاں اور دخانی انجن سے چلنے والے چھکڑے بھی کوئی نہیں کہ دھواں دھار مکانات کو سیاہ کرتا رہے۔گھوڑا ، بیل، گائے بھینس بلکہ بکری تک بھی نہیں۔ریل بھی شہر میں کوئی نہیں چلتی اور خاموش خوبصورت مگر وضعداری میں یورپ اور ایشیا دونوں کا رنگ لئے ہوئے یہ بستی ٹکڑے ٹکڑے کر کے تین لاکھ آدمیوں کو اپنی گود میں لئے ہوئے آبا دوشاد ہے۔ویس چونکہ ایک مشہور اور پرانا خوبصورت بندرگاہ ہے اس وجہ سے کثرت سے سیر و تماشا اور مناظر قدرت کے دیکھنے کی غرض سے لوگ یہاں دُور دُور سے آتے رہتے ہیں اس وجہ سے گرانی کے لحاظ سے یورپ سے بھی کچھ بڑھا ہوا نظر آتا ہے۔باشندے محنت کش اور ایشیا و یورپ دونوں رنگ لئے ہوئے ہیں۔کسی زمانہ میں ان لوگوں نے بہت زبر دست سلطنت اور بڑے لمبے چوڑے فتوحات کئے تھے اور دینیس ایک بہت بڑی مضبوط اور جابر سلطنت کا پایہ تخت رہ چکا ہے۔لوگ چونکہ زیادہ تر ملاح ہیں اور غریب بھی اس وجہ سے بعض خطر ناک جرائم کے بھی مرتکب ہوتے رہتے ہیں۔سنا گیا ہے کہ رات کے اندھیرے میں اندرونی گلی کوچوں میں بعض مسافروں کو مال و منال کے طمع کی وجہ سے بے طرح قتل کر کے حوالہ سمندر کر دیا جاتا ہے لہذا عقلمند اور واقف کار مسافر شام کے بعد اندرونی گلی کوچوں میں جانے سے گریز کرتے ہیں۔ہم لوگ سفر کی ضروریات کے لئے اور حضور بھی شہر کے بعض حصص کی سیر اور کچھ شا پنگ کے لئے تشریف لے گئے۔حضور نے بعض چیزیں خود خرید فر مائیں اور بعض چیزیں اپنے ساتھیوں کے لئے خریدنی پسند فرما ئیں چنانچہ چوہدری ظفر اللہ خان صاحب اور چوہدری محمد شریف صاحب دونوں نے بعض چیزیں ایسی بھی خرید کیں جن کی خرید حضور نے ان کے لئے پسند کی اور خرید نے کی سفارش کی۔اس طرح ہم خرما و ہم ثواب کے مالک ہوئے اور دونوں اپنے اس عمل پر خوش و نازاں ہیں اور واقعی ان کو خوش ہونا بھی چاہئے کیونکہ وہ چیزیں گویا مفت میں ان کے لئے تبرک