سفر یورپ 1924ء — Page 422
۴۲۲ : ایڈیٹر میں آپ کا شکر یہ ادا کرتا ہوں کہ آپ نے مجھے باریابی کا موقع دیا۔سید نا حضرت میں آپ کا شکر یہ ادا کرتا ہوں کہ آپ نے مجھ سے ملنے کی تکلیف اُٹھائی اور میں اہل اٹلی کا بھی شکر گزار ہوں کہ انہوں نے ہماری جماعت کے معاملہ میں دلچسپی لی۔اچھا خدا حافظ۔یہ تمام گفتگو حضرت نے انگریزی میں کی اور ایک ترجمان نے اس کو ایڈیٹر کی زبان میں ترجمہ کر کر کے پہنچایا ) ٹھیکے بجے شام کو ہماری گاڑی وینیس کو روانہ ہوئی جس میں بہت بڑا رش تھا جس کو دیکھ کر ہمارے پنجاب کی ریل گاڑیاں یاد آ گئیں اور رات کے اندھیرے میں ریل نے وینس کی طرف چلنا دوڑنا اور بھاگنا شروع کیا۔شام اور عشاء کی نماز میں ریل ہی میں اپنی اپنی جگہ پر ادا کی گئیں۔کھانا بھی حضور نے اور دوسرے تمام دوستوں نے وہی کھایا جو پیرس سے اس سفر کے لئے ساتھ لیا تھا۔اس راستہ میں کہیں بھی کھانا اسٹیشن پر نہ ملتا تھا اور اگر کچھ ملتا تھا تو خدا جانے کیا کیا تھا۔اس احتیاط سے مکر می چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کی ہدایت پر کھانا تیار کر ا لیا گیا تھا۔جوں جوں گاڑی وینیس کو بڑھتی گئی مسافر انتر اُتر کر کم ہوتے گئے اور ہمیں کھلی جگہ ملتی گئی حتی کہ گاڑیوں کا اکثر حصہ خالی ہو گیا۔وینس سے ایک سٹیشن ورے ( ورے نہیں اب تو پرے کہنا چاہئے ) سمندر شروع ہو گیا اور اب گاڑی ایک پل پر سے گزرتی ہوئی ونیس کو روانہ ہوئی۔دورویہ سمندر کا پانی۔درمیان میں صرف ایک ریل کی سڑک جو کئی میل تک پانی ہی پانی کے اندر چلی گئی ہے بہت خوبصوت نظارہ تھا مگر رات کے اندھیرے نے اس کا لطف نہ اٹھانے دیا اور ہماری گاڑی ایک بجے کے قریب وینیس کے بڑے سٹیشن پر جا پہنچی۔سامان اُتار لیا گیا اور ہمیں ہدایت ہوئی کہ سب لوگ سامان کے پاس سٹیشن پر انتظار کریں۔حضرت اقدس خود بمعیت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب شہر میں جا کر ہوٹل دیکھ کر فیصلہ فرما ئیں گے پھر اطلاع آنے پر ہم شہر میں جائیں مگر سٹیشن پر ہی ایک ہوٹل کا ایجنٹ مل گیا جس سے حالات اور دیگر قابل دریافت امور وہیں طے ہو گئے اور سارا قافلہ سامان سمیت جو ساتھ تھا ( بک شده سامان دوسرے دن صبح کو منگایا گیا ) تین گنڈ ولوں میں بیٹھ کر رات کے اندھیرے میں شہر کی طرف بڑھا۔رات کے اندھیرے اور خاموشی میں ہمارے