سفر یورپ 1924ء — Page 175
۱۷۵ میں بھی اکثر عورتیں ہی جاتی ہیں۔مرد اگر کوئی جاتے ہیں تو وہ بھی عورتوں ہی کے لے جائے ہوئے ہوتے ہیں۔دہر یہ عورت کے خیالات اور صاف صاف باتوں کو سن کر حضور نے فرمایا کہ ان کی صاف گوئی بھی ایک صفت ہے مگر اگر ان کو سمجھ آجائے کہ حقیقتا کوئی خدا ہے تو پھر انشاء اللہ خدا کو بھی اسی صفائی اور پختگی سے مانیں گی اور دل سے مسلمان ہوں گی۔حضور کی تقریر جو مذہبی کا نفرس میں پڑھی جانے والی ہے اس کا ترجمہ دن رات ایک کر کے مکرمی چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کر رہے ہیں۔محترم چوہدری صاحب نے ۱۵ را کتوبر کے جہاز میں ہندوستان جانے کا انتظام کیا ہوا تھا مگر حضرت اقدس نے حکم دے کر اس کو منسوخ کرا دیا ہے اور فرمایا ہے کہ اب آپ ہمارے ساتھ ہی چلیں۔قابل رشک ہیں یہ نو جوان بزرگ جس نے اپنے آقا و امام کی خوشنودی پر نہ جانیں کتنے ارادے اور کیا کیا پروگرام قربان کر کے یہ اسوہ حسنہ قائم کیا ہے۔جزاه الله تعالى احسن الجزاء في الدنيا و الآخرة حضرت خلیفہ اسیح الثانی سپر چولسٹوں کے ہال میں : آج حضور سپر چولسٹوں کے ہال میں تشریف لے گئے۔ایک عورت نے خدا کی ہستی اور انسانی تعلقات پر لیکچر دیا۔ایک حد تک اچھا لیکچر تھا مگر وہ لوگ روح انسانی ہی کو خدا سمجھتے ہیں۔بعد میں ایک عورت نے روحیں بلانی شروع کیں اور اس طرح بہکی بہکی باتیں کرنے لگی کہ لوگ سمجھیں کہ واقعی اس پر کوئی روحیں آئی ہیں اور وہ ان کا حلیہ بیان کر رہی ہے۔ابتدا سے انتہا تک حضور نے ساری کارروائی دیکھی۔جلسہ کے خاتمہ پر ایسوسی ایشن کے بڑے کا رکن حضور سے ملے اور حضور کی رائے پوچھی۔حضرت نے فرمایا کہ آخری حصہ سے تو ہم لوگ بالکل اتفاق نہیں کرتے۔البتہ پہلی لیڈی کا لیکچر ایک حد تک معقول تھا جس نے یہ بیان کیا کہ انسانوں سے خدا بولتا ہے اور ان سے تعلق رکھتا ہے چنانچہ خود مجھ سے بھی بولتا ہے اور میں نے خدا کی آواز سنی ہے۔حضور کی ان باتوں سے اور عرفانی صاحب کی بعض باتوں سے جو انہوں نے انگریز مرد اور عورتوں سے کیں اکثر لوگوں کا حضور کی طرف رجحان ہو گیا اور وہ محبت اور تعجب سے حضور کی باتیں سنتے رہے۔انجمن والوں نے حضور سے درخواست کی کہ پھر بھی حضور ہمارے جلسہ کو رونق بخشیں۔