صد سالہ تاریخ احمدیت — Page 218
۲۴۱ جواب بر استان آنکه ز خود رفت بهر یار چون خاک شود مرضی مارے دران بجو ترجمه در که اگر تو خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنا چاہتا ہے تو ایسے شخص کی تلاش کہ جو خدا تعالیٰ کے لئے اپنے نفس کو کھو چکا ہو پھر اس کے دروازہ پر مٹی کی طرح بے خواہش ہو کہ گیر جیا اور اسی طرح اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کم۔سوال ۹۵۳ حضرت سارہ بیگم صاحبہ کی وفات پر حضرت خلیفہ ثانی (اللہ آپ سے راضی ہو) نے جو اشعار کہے ان میں سے چند بیان کریں جن میں ان کی سیرہ کے پہلو نمایاں ہوں ؟ جواب کہ رحم اسے رجسیم مرے حال زار پر زخم جگر پہ درد دل بے قرار پسر جس کی حیات اک ورق سوز ساز تھی جیتی تھی جو غذائے تمنائے یار پر مقصور جس کا علم و تقی کا حصول تھا رکھتی تھی جو نگر نگر لطف یار پر تھی ما حصل حیات کا اک سعی ناتمام کائی گئی غریب حوادث کی دھار پر ہاں اس شہید علم کی تربیت پر کر نزول خوشیوں کا باب کھول نوں کی شکار پر اس ہاں اے مغیث سن لے مری التجا کو آج که رحم اس وجود د محبت شعار پر سوال ۹۵۴ احمد به فیلو شپ آف لیو نند کا قیام کسب عمل میں آیا ؟ جواب وسط ۱۹۳۲ ء میں لاہور کے احمدی نوجوانوں نے تبلیغی انجمن قائم کی تھی جس کی خدمات نے حضور سے پسندیدگی حاصل کی۔سوال ۹۵۵ ۱۹۳۳ء میں چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے لنڈن میں کیا مذہبی اور سیاسی خدمات انجام دیں ؟ جواب ہندوستان کے آئندہ ملکی نظام اور آئین اساسی کی ترتیب۔گول میز کا نفرنس میں شرکت اور بہت فضل لندن میں تبلیغی پیکچرز دیئے۔سوال ۹۵۶ اب اردو کے حامل احمدی ہوں گے یا اردو کے حامل احمدی