سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 336
سبیل الرشاد جلد چہارم 336 انصار اللہ اچھا کام کر رہی ہے مگر میں ان سے اور کام چاہتا ہوں نو مبائعین کی تربیت کا مطلب ان کو اپنے اندرسمونا اور جماعت کا حصہ بنانا ہے۔مورخہ 10 دسمبر 2012ء کو بیت السبوح میں اراکین مجلس عاملہ انصار اللہ جرمنی کی حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ میٹنگ منعقد ہوئی جس میں حضور انور نے قائد عمومی سے مجالس کی تعداد اور ان کی طرف سے موصول ہونے والی رپورٹس کے بارہ میں دریافت فرمایا۔جس پر قائد عمومی نے بتایا کہ ہماری 241 مجالس ہیں۔امسال پانچ مجالس کا اضافہ ہوا ہے۔نومبر 2012 ء کی رپورٹس مجالس کی طرف سے آنے والی ہیں۔لیکن اکتوبر 2012ء میں 234 مجالس کی طرف سے رپورٹس موصول ہوئی ہیں۔ہر ماہ قریباً اتنی ہی مجالس با قاعدہ رپورٹس بھجواتی ہیں۔حضورانور کے دریافت فرمانے پر قائد عمومی نے بتایا کہ جن مجالس سے رپورٹس موصول نہیں ہوتیں ان کو یاد دہانی کرواتے ہیں۔خط لکھتے ہیں۔ناظم علاقہ سے رابطہ کر کے پتہ کرتے ہیں اور فون پر بھی یاد دہانی کرواتے ہیں۔حضور انور نے ہدایت فرمائی کہ ان مجالس کو بار بار یاد دہانی کروائیں جو اپنی رپورٹس نہیں بھجواتیں۔پھر یہ بھی ضروری ہے کہ ہر مجلس کی رپورٹس پر قائدین اپنے اپنے شعبہ کی کارکردگی پر تبصرہ کر کے اس مجلس کو بھجوائیں۔اس طرح مجلس کو ہر رپورٹ کا جواب دیا جانا چاہئے۔قائد تربیت نے حضور انور کے استفسار پر بتایا کہ انصار کی مجموعی تعداد 4070 ہے جن میں سے صف اول کے 1416 اور صف دوم کے 2656 ہیں۔صف اول میں سے اسی (80) کے قریب ایسے انصار ہیں جو نمازوں میں بے قاعدہ ہیں۔صف دوم کے انصار میں سے پندرہ سولہ سو با قاعدہ نمازیں ادا کرتے ہیں۔قائد تربیت نے بتایا کہ انصار کو حضور انور کے خطبات سننے کی طرف بھی توجہ دلائی جاتی ہے۔حضور انور کے دریافت فرمانے پر قائد تربیت نے بتایا کہ تمام مجالس میں انصار اللہ کی مجالس عاملہ کے ممبران کی تعداد 1903 ہے۔اس پر حضور انور نے فرمایا اگر مجالس عاملہ کے تمام ممبران نماز ادا کرنے والے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ عاملہ کے علاوہ باقی دو ہزار میں سے چھ صد با قاعدہ نمازیں پڑھنے والے ہیں۔اگر دوسروں میں سے زیادہ پڑھنے والے ہیں تو پھر عاملہ میں سے پڑھنے والے کم ہیں۔آپ کو یہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔جو کمزور انصار ہیں ان کو توجہ دلاتے رہیں۔اور رابطے رکھیں۔جو بوڑھے ہورہے ہیں ان کو یہ بھی بتائیں کہ پتہ نہیں کب موت آجانی ہے، زندگی کم ہورہی ہے۔خدا زیادہ یاد آنا چاہئے۔حضور انور نے فرمایا کہ خطبات سننے کے بعد نمازوں کی حاضری کتنی بڑھی ہے۔یہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔تمام مجالس اپنی اپنی جگہ اس کا جائزہ لیں۔صرف جائزہ ہی نہیں لینا بلکہ عملی طور پر کام کرنا ہے اور خطبات سننے والوں کی تعداد بھی بڑھنی چاہئے۔اور نمازوں میں حاضری بھی بڑھنی چاہئے۔