سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 163
سبیل الرشاد جلد چہارم 163 جس قدر آپ کا خلیفہ وقت سے ذاتی تعلق ہوگا اسی قدر آپ دینی و دنیاوی حسنات سے حصہ پائیں گے سالانہ اجتماع مجلس انصار اللہ بھارت منعقدہ8, 10,9 ستمبر 2006ء کے موقع پر بصیرت افروز پیغام پیارے ممبران مجلس انصار اللہ بھارت السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مکرم صدر صاحب انصار اللہ بھارت نے سالانہ اجتماع کے موقع پر پیغام بھجوانے کے لئے لکھا ہے۔اللہ تعالیٰ یہ اجتماع ہر لحاظ سے خیر و برکت کا موجب بنائے۔آپ سب کو اس سے بھر پور استفادہ کرنے اور آپ کی روحانی تربیت کے سامان پیدا فرمائے۔آمین۔اس موقع پر میں آپ کو خلافت سے وابستگی اور اطاعت کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں۔آج دنیا سخت بدامنی کا شکار ہے۔مسلمان مسلمان سے لڑ رہا ہے مختلف فرقوں میں تقسیم ہوکر وہ ایک دوسرے کے خلاف نفرتوں کا شکار ہیں۔ایک ہی کلمہ پڑھنے والے، ایک ہی نبی کی طرف منسوب ہونے والے، ایک دوسرے کے خلاف محاذ آراء ہیں۔قرآن کریم اور احادیث کے خزانے موجود ہونے کے باوجود آج مسلمان اس قیادت کی پہچان سے محروم ہیں جو خدا نے انہیں ایک ہاتھ پر جمع کرنے کے لئے مامور فرمائی ہے۔آپ خوش نصیب ہیں کہ آپ کو حضرت امام الزمان مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت میں شامل ہونے کے صدقے نظام خلافت سے وابستگی کی تو فیق عطا ہوئی ہے جو خدا کے فضل سے دائمی ہے۔جس قدر آپ کا خلیفہ وقت سے ذاتی تعلق ہوگا اسی قدر آپ دینی و دنیاوی حسنات سے حصہ پائیں گے۔آپ کے آپس کے تعلقات میں بہتری آئے گی۔معاشرے میں بھی امن کی فضا قائم ہوگی اس لئے عافیت کے اس حصار سے فیض پانے کے لئے آپ سب کو خلافت سے اپنے تعلق کو مضبوط سے مضبوط تر کرنا ہوگا۔غلبہ اسلام اور امن عالم کے لئے دعائیں کرنا ہوں گی اپنے اطاعت کے معیار کو بلند کرنا ہوگا۔اور اپنے عہدیداروں کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے خلافت کے دست و باز و اور خلیفہ وقت کے لئے سلطان نصیر بننا ہوگا۔اطاعت کا مضمون بہت اہم ہے۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف موقعوں پر اس کی اہمیت اور افادیت بیان فرمائی ہے۔ایک موقع پر آپ نے فرمایا کہ ”جس نے امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی اس مضمون پر خوب روشنی ڈالی ہے۔آپ فرماتے ہیں: اطاعت ایک ایسی چیز ہے کہ بچے دل سے اختیار کی جائے تو دل میں ایک نو ر اور روح میں ایک