سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 115
115 سبیل الرشاد جلد چہارم آگے کئی کئی بچے ہیں۔ان میں تو نسل بڑھ رہی ہے لیکن تبلیغ کے میدان میں پیچھے ہیں۔اس کی ایک وجہ دنیا داری کی طرف زیادہ توجہ بھی ہو سکتی ہے۔آپس کی ان لوگوں کی طرح پیار و محبت میں کمی کی وجہ سے بھی ہو سکتی ہے پس اس لحاظ سے اللہ تعالیٰ کی خاطر اپنے اندر تبدیلیاں پیدا کرتے ہوئے جہاں اپنی کمزوریوں کو دور کریں وہاں جیسا کہ میں نے کہا تبلیغ میں بھی آگے بڑھیں ، لوگوں کی رہنمائی کریں لیکن اس کے لئے اپنے بھی اعلی عمل اور عملی نمونے دکھانے ہوں گے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ کو خلافت سے وابستگی اور اخلاص ہے۔لیکن اس کے باوجود یہ کمزوری یہاں کافی ہے کہ تبلیغ کی طرف اس طرح توجہ نہیں دی جارہی جس طرح ہونی چاہئے۔اس لئے جماعتی نظام بھی اور ذیلی تنظیمیں بھی دعوت الی اللہ کے پروگرام بنا ئیں۔اردگرد کے چھوٹے چھوٹے جزیرے ہیں جہاں بھی آبادی ہے وہاں وفد بھیجیں اور ان جزیروں کو احمدیت کی آغوش میں لائیں۔یہاں اس جزیرے میں بھی تبلیغ کریں۔مسلمان یہاں اگر خلاف ہیں تو اپنے مولویوں کے احمدیت کے خلاف غلط پروپیگنڈہ کی وجہ سے خلاف ہیں۔ان کے علم میں ہی نہیں ہے کہ احمدیت کی حقیقی تعلیم کیا ہے اور ہمارا کیا ایمان ہے اور کیا مانتے ہیں۔کئی مسلمان شرفاء با وجود ان فسادیوں کے جلوس نکالنے اور تقریریں کرنے کے ، جو کہ ہمارے جلسے کے دوران آخری دن انہوں نے کیں، یہ شرفاء ہمارے جلسے میں شامل ہوئے اور مجھے ملے اور اسلام کی صحیح تصویر دکھانے اور احمدیت کے حقیقی پیغام کے پہنچانے کا شکر یہ ادا کر کے گئے۔تو یہ مستقل تبلیغی را بطے اگر ہوں گے تو انہیں احمدیت کی حقیقی تعلیم سے آگاہی ہوگی۔پس آپ لوگ ایک ہو کر اس تبلیغی مہم میں جت جائیں۔اللہ تعالیٰ آپ کو اس کی توفیق دے۔یا درکھیں یہی ایک ذریعہ ہے جس سے آپ بھی اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بنیں گے اور اپنی اولادوں کو بھی محفوظ رکھیں گے۔اپنے نوجوان بچوں اور بچیوں کو دنیا کے گند سے بچا کر رکھ سکیں گے۔اپنے بچوں میں بھی اس بات کو راسخ کریں کہ تمہارے باپ دادا نے ، تمہارے بزرگوں نے احمدیت کو صحیح سمجھا ، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تعلیم پر عمل کیا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں بے انتہا فضلوں سے نوازا۔تم لوگ بھی بجائے یہ دیکھنے کے کہ دنیا آجکل کس طرف جا رہی ہے یہ دیکھو کہ خدا تعالیٰ تمہیں کس طرف بلا رہا ہے۔پس اس طرف آؤ اور اس کے حکموں پر عمل کرو۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ بدی کو بیزار ہو کر ترک کرو۔پس اس کے لئے آپ کو اپنے بچوں کے لئے اپنے عملی نمونے بھی پیش کرنے ہوں گے، اپنے اندر سے بھی چھوٹی چھوٹی برائیوں کو ختم کرنا ہو گا۔آپ لوگوں کو خود بھی نیکیوں کو اپنانا ہو گا۔آجکل معاشرے میں بہت سی ایسی برائیاں ہیں جن کا اثر ہمارے معاشرے میں پڑ رہا ہے۔پس اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتے ہوئے خود بھی ان سے بچیں اور اپنی اولادوں کو بھی ان سے بچائیں۔کیونکہ اسی میں اب آپ کی بہتری ہے۔اللہ کرے کہ آپ لوگ اپنے بزرگوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اس حقیقت کو سمجھنے والے ہوں اور