سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 27
27 زبان سیکھنی شروع کریں۔پھر چھٹیوں میں وہاں سیر کے لئے جاتے ہیں وہ وہاں تبلیغ بھی کریں۔میں نے ان سے کہا کہ پین کی طرف تو آج کل سارے یورپ اور امریکہ کا رجحان ہے اور سیر کے لئے بڑی پیاری جگہ ہے آپ کے لئے تو ایک پنتھ اور دو کاج والا معاملہ ہے اگر آپ تبلیغ اسلام کے لئے نکلیں گے تو سیر پیچھے تو نہیں رہ جائے گی آپ کی سیر میں مزا بہت بڑھ جائے گا۔یورپ اور امریکہ تو وہاں اس لئے جاتا ہے کہ روپیہ خرچ کر کے ان کو عیاشی کے نئے نئے رستے دکھائے۔اور ان کو ذلیل اور رسوا کرے۔وہ تو اس لئے جاتے ہیں کہ تا اہل سپین زیادہ سے زیادہ شیطان کی آغوش میں چلے جائیں اور اس وقت سپین میں جو امن ہے۔وہ بھی باقی ندر ہے یہ امر واقعہ ہے اور یہی ہو رہا ہے۔چنانچہ وہاں کی مجالس میں جب مجھ سے بے تکلف سوال ہوئے اور ان سے بات ہوئی تو انہوں نے خود بھی یہ خطرہ محسوس کیا کہ امریکن اور مغربی قوموں کا جو Influence ٹورسٹس (Tourists ) یعنی سیاحوں کی شکل میں ظاہر ہو رہا ہے یہ ہمارے اندر بڑی خرابیاں پیدا کر رہا ہے بے حیائی بڑھی ہے اور اس کے علاوہ عیاشی کے نئے نئے ذریعے ہمارے سامنے آرہے ہیں ہم ایک غریب قوم ہیں۔ہمارے اندر اس کی توفیق نہیں۔جب توفیق سے بڑھ کر عیاشی سامنے آتی ہے تو ہمیشہ کر پشن پیدا ہوتی ہے۔ہمیشہ رشوت ستانی داخل ہو جاتی ہے۔یہ بے چینیاں میں نے ان کے اندر محسوس کی ہیں۔میں نے کہا ایک طرف یہ بے چینیاں پیدا کرنے والے جا رہے ہیں تو دوسری طرف خدا کے بندے بے چینیاں دور کرنے والے بھی جانے چاہئیں۔آپ جائیں اور ان کو پاکیزہ معاشرے کی طرف بلائیں آپ جائیں اور ان سے پاکیزہ دوستیاں کریں ان کو بتائیں کہ ہم اسلام کی طرف سے امن اور صلح اور محبت اور آشتی کا پیغام آپ کے لئے لے کر آئے ہیں۔مختلف دیہات میں جائیں اور ان تک یہ پیغام پہنچائیں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت اچھی Response ہوئی یعنی بڑے جوش و ہوش کے ساتھ وہاں احباب نے وعدے کیے کہ ہم اس کام کے لئے حاضر ہیں جب بھی خدا ہمیں توفیق دے گا ہم اپنی چھٹیاں سپین میں گزاریں گے۔لیکن اس کے لئے کچھ نظم و ضبط اور ترتیب کی ضرورت ہے۔چنانچہ وہاں میں نے یہ ہدایت دی تھی اور اب تحریک جدید کو یہ ہدایت دیتا ہوں کہ وہ یہاں سے اس پروگرام کو منظم کرے۔مثلاً اندلس کی سرزمین ہے اس میں چونکہ اسلام کا زیادہ اثر رہا ہے اس لئے وہاں کے لوگ زیادہ خلیق اور زیادہ محبت کرنے والے ہیں۔اور اندلس کی سرزمین ہی میں ہم نے مسجد بنائی ہے وہ کافی وسیع علاقہ ہے وہاں چار یا پانچ صوبے ہیں اور کافی آبادی ہے۔اگر تحریک جدید اندلس کے علاقے واقفین کی تعداد معلوم کر کے تقسیم کر دے کہ یہ حصہ جرمنی کے سپرد ہے یہ حصہ سوئٹزر لینڈ کے سپر د ہے، یہ ڈنمارک کے، یہ ناروے کے، یہ سویڈن کے، یہ فرانس کے اور اسی طرح فلاں حصہ انگلستان کے سپرد ہے تو سپین میں بہت جلد اسلام پھیل سکتا ہے۔نقشے کے اوپر معین کر دیا