سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 231
231 رفتہ رفتہ یہ سب کام بڑھتا چلا جارہا ہے، پھیلتا چلا جارہا ہے۔سلطنًا نَّصِيرًا مہیا ہورہے ہیں۔ان کی ضرورتیں بھی پوری ہورہی ہیں لیکن جماعت کے اوپر کوئی الگ بوجھ نہیں ہے۔شعبہ کو بناتے وقت تھوڑی سی محنت کرنی پڑتی ہے۔اس کے بعد انسان بے فکر ہو کر عمومی نگرانی کرتا ہے۔پہلے بھی میں نے بارہا جماعت کو سمجھایا ہے کہ تخلیق کائنات کے متعلق قرآن کریم نے جو مضمون بیان کیا ہے اس پر غور کرو۔چھ دنوں میں ساری کائنات کو پیدا کر کے اس کو درجہ کمال تک پہنچا دیا اور جب سب نظام خود کار آلوں کی طرح چل پڑا تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ (الاعراف : 55) پھر خدا تعالیٰ عرش پر مستوی ہو گیا یعنی جس طرح جائزہ لینے کے لئے ، آفاقی نظر سے دیکھنے کے لئے کوئی بلند مقام پر فائز ہواور صرف یہ دیکھ رہا ہو کہ کیسے چل رہا ہے یا اگر کہیں کوئی رخنہ پیدا ہوتو اس کے لئے سزا دینے والا یا روکنے والا یا کمی پوری کرنے والا جو نظام مقرر ہے وہ مستعد ہے کہ نہیں۔وہ کر کے پھر اور آسمانوں کی تخلیق کے لئے (خدا تعالیٰ کے متعلق یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ وقت مل گیا لیکن ) تو جہات فارغ ہوگئیں اور تو جہات کے فارغ ہونے کا محاورہ قرآن کریم نے خود بیان فرمایا ہے۔سَنَفْرُغُ لَكُمْ اَيُّهَ الثَّقَلُنِ (الرحمان:32) اے دو بڑی بڑی وسیع طاقتو اور بھاری لوگو! ہم تمہارے لئے فارغ ہوں گے۔خدا کے لئے فراغت کے معنی ویسے تو نہیں ہوتے جیسے ہمارے لئے ہوتے ہیں لیکن بہر حال لفظ فراغت قرآن کریم نے اللہ تعالیٰ کے لئے بھی استعمال فرمایا تم استوای عَلَى الْعَرْشِ سے مراد میں یہی سمجھتا ہوں کہ ایک اچھا منتظم جب ایک کام کو چلا کر اور جاری کر کے روز روز کے کاموں کے دھندوں سے نجات حاصل کرلے اور انسانی سطح پر فارغ کے جو معنی ہیں ان معنوں میں نسبتی طور پر فارغ ہو جائے تو اس کو پھر اور کاموں کی طرف متوجہ ہونے کا وقت مل جاتا ہے اور اس طرح نظام ہمیشہ ارتقاء پذیر رہتا ہے آگے بڑھتا چلا جاتا ہے۔مومن رسمی طور پر نہیں بلکہ اوامر اور نواہی میں گہرائی میں جا کر حق ادا کرتا ہے امراء کو بھی اس مضمون کو سمجھنا چاہئے سب عہدیداران کو سمجھنا چاہئے۔بات سن کر اتنی سی بات پر عمل کر کے رسمی طور پر اس بات کا حق ادا کیا، گہرائی میں جا کر اس بات کا حق ادا نہ کیا ان دو باتوں میں فرق ہے۔مومن وہ ہے جو رسمی طور پر حق ادا نہیں کرتا بلکہ اوامر اور نواہی میں گہرائی میں جا کر حق ادا کرتا ہے اور جو لوگ علم میں ڈوب کر اس کو سمجھتے ہیں، اس کے تقاضوں کو سمجھتے ہیں ان کا علم ترقی کرتا ہے اس علم کے ذریعہ ان کو نئے نئے فوائد حاصل ہوتے رہتے ہیں۔بہر حال یہ مضمون بعض باتوں کے کچھ تھوڑ اسا زیادہ تفصیل میں چلا گیا ہے۔اصل مضمون کی طرف واپس آتے ہوئے میں عرض کرتا ہوں کہ عہدیداران کو ، خصوصاً امراء کو معلومات