سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 161 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 161

161 اہمیت اس بات کو دینی چاہئے کہ ان کی مجالس کے اندر ایک بھی فرد نہ رہے جو نماز کا ترجمہ نہ جانتا ہو اور پنجوقتہ نماز پر قائم نہ ہو۔باقی ساری باتیں انشاء اللہ رفتہ رفتہ سکھائی جائیں گی۔میر اپروگرام یہ ہے کہ تمام مجالس پر اس پہلو سے نظر رکھوں اور ان کی رپورٹوں کو سر دست مختصر بنا دوں۔ان سے یہ توقع رکھوں کہ آپ لمبی تفصیلی رپورٹیں مجھے نہ کریں جن سے میں خود براہ راست گزر نہ سکوں بلکہ مجھ تک جو آپ کام پہنچانا چاہتے ہیں وہ مختصر کر دیں اور بجائے اس کے کہ یہ بتائیں کہ آپ نے کتنے پیڑ لگائے اور کتنی محنتیں کیں اور کس طرح ان پودوں کو تناور درختوں میں تبدیل کیا مجھے صرف یہ بتا دیا کریں کہ پھل کتنے لگے۔پیڑوں سے مجھے غرض نہیں ہے۔تو پھلوں کے لحاظ سے ان پانچ عادات کے متعلق رپورٹ مل جائے کہ آپ نے کتنے احمدیوں میں یہ عادات راسخ کرنے میں کام کیا ہے، کتنے بچوں نے ، بڑوں نے مردوں اور عورتوں نے عہد کیا ہے کہ وہ آئندہ جھوٹ نہیں بولیں گے اور اس سلسلے میں آپ نے کیا کارروائیاں کی ہیں۔سر دست یہ بتائیں صرف یعنی نظر رکھنے کے لئے کیا کارروائیاں کی ہیں۔عادتوں کو مزید راسخ کرنے کے لئے کیا کارروائیاں کی ہیں۔اتنا حصہ بے شک مزید بھی بتا دیں جو پھلوں کی حفاظت سے تعلق رکھنے والا حصہ ہے۔پھل پیدا کریں ، ان کی حفاظت کا انتظام کریں اور وہ حفاظت کی جو کارروائیاں ہیں مختصر وہ اپنی رپورٹ میں بے شک لکھ دیا کریں۔دوسرا پہلو یہ ہے کہ یہ پتا لگ جایا کرے کہ عرصہ زیر رپورٹ میں کتنے ایسے احمدی بچے ، بڑے تھے جونماز پنجوقتہ نہیں پڑھتے تھے جن کو آپ نے نماز پنجوقتہ کی عادت ڈالی ہے۔کیا کوئی نماز نہیں پڑھتے تھے اور آپ نے ایک یا دو نمازوں کی عادت ڈالی ہے۔صرف یہ تعداد کافی ہے۔اگلی رپورٹ میں ان کا ذکر نہ ہو بلکہ مزید جو آپ نے اس میں شامل کئے ہوئے ہیں ان کا ذکر ہو۔یا اگر دو پڑھتے تھے اور تین پڑھنے لگ گئے تو ان کا ذکر ہو سکتا ہے اور اسی طرح یہ ذکر ہو کہ کتنے ایسے احمدی تھے جن کو نماز کا ترجمہ نہیں آتا تھا اور ان کو آپ نے کسی حد تک ترجمہ پڑھایا ہے۔اس کے بھی مختلف مراحل ہیں۔کسی کو تر جمہ شروع کر وا دیا گیا ہے،کسی کا ترجمہ مکمل ہو گیا ہے۔تو دوحصوں میں بیان کیا جا سکتا ہے کہ اتنے ترجمہ پڑھ رہے ہیں اور اتنے ایسے خوش نصیب ہیں جو اگر چہ پہلے ترجمہ نہیں جانتے تھے اور اب ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ ان کو تر جمعہ آ گیا ہے۔تو یہ چھوٹے چھوٹے کام ہیں ان کی طرف ساری مجالس اپنی ساری توجہ مبذول کر دیں۔ان کے علاوہ جو دوسرے کام ہیں سر دست وہ جاری تو رہیں گے مگر ان کو مقابلہ ثانوی حیثیت دیں۔اس سے میں امید رکھتا ہوں کہ انشاء اللہ تعالیٰ جماعت کی عظیم الشان تعمیر کی ایسی بنیاد یں قائم ہو جائیں گی جو اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ تمام دنیا میں اسلام کی عمارت کو مستحکم اور بلند تر کرنے میں عظیم الشان کارنامے سرانجام دے گی۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔" خطبات طاہر جلد 8 صفحہ 754-770)