سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page iv of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page iv

iii پیش لفظ طبع ثانی اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدہ کے مطابق تیرھویں صدی ہجری کے آخر اور چودھویں صدی کے ابتدائی زمانہ میں احیاء دین اور تعلیم کتاب و حکمت کی غرض سے حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کو مسیح موعود اور مہدی موعود بنا کر بھیجا۔الہی منشاء کے مطابق آپ کی وفات (1908ء) کے بعد خلافت علی منہاج النبوت کا نظام پھر سے جاری ہوا جس نے دور خلافت راشدہ کی یاد تازہ کر دی۔جماعت احمدیہ کے دوسرے خلیفہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے جولائی 1940 ء میں مجلس انصار اللہ کی بنیاد رکھی جس کا مقصد تعلیم قرآن و حکمت، دعوت الی اللہ اور خدمت خلق سے دین حق کی نصرت ، اپنے عمدہ نمونہ اور تربیت اولاد کے ذریعہ جماعت کو ترقی کے میدان میں آگے بڑھانا تھا۔اس مقصد کے حصول کے لئے خلفائے احمدیت مسلسل راہنمائی فرماتے رہے۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے ایسے ہی راہنما ارشادات پر مشتمل سبیل الرشاد جلد اول جون 1996 ء میں اور حضرت خلیفتہ المسیح الثالث کی ہدایات پر مشتمل جلد دوم طبع اول 2006ء میں شائع ہوئی۔سبیل الرشاد کی جلد دوم کے طبع اول میں حضرت خلیفتہ المسح الثالث" کے مجلس انصاراللہ مرکز یہ کے سالانہ اجتماعات یا تربیتی کلاسز کے خطابات کو شامل کیا گیا تھا۔زیر نظر سبیل الرشاد جلد دوم کے طبع ثانی میں حضرت خلیفۃ اسیح الثالث" کے 17 سالہ دورِ خلافت کے دوران خطبات وخطابات میں انصار اللہ سے متعلق بیان فرموده ارشادات و فرمودات پر مشتمل قریباً یکصد صفحات بطور ضمیمہ شامل کئے جارہے ہیں۔حضرت خلیفۃ اسیح الثالث نے اپنے ان ارشادات میں جہاں انصار اللہ کو جانے والوں کے قائمقام پیدا کرنے کی طرف توجہ دلائی وہاں تربیت کی ذمہ داری بھی ان پر ڈالی کہ وہ اپنے ماحول کو بداثرات سے محفوظ رکھیں۔آپ نے انصار کو دینی کتب کی خرید کے لئے کلب بنانے اور گھروں میں فیملی کلاسز جاری کرنے کی تحریک فرمائی۔انصار کو قرآن کریم سیکھنے اور سکھانے ، آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوۂ حسنہ اپنانے اور مسابقت فی الخیر کی روح اُجاگر کرنے اور تربیت کا ماحول پیدا کرنے کی طرف توجہ دلائی۔جہاد کا فلسفہ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ انسانوں کی خدمت بھی جہاد فی سبیل اللہ ہے۔حضور نے