الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 386
378 نظرية انتخاب طبعی اور بقائے اصلح غیر معمولی خواص کے حصول اور تکمیل میں اگر کئی لاکھ سال کا عرصہ لگا تو کیا ضروری نہیں کہ لومڑی کے ارتقا میں بھی اتنا ہی وقت خرچ ہوا ہو۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان کی جسمانی ساخت میں ایسی تبدیلیاں جو ان کی بقا کیلئے از بس ضروری تھیں رونما ہونے سے پہلے لومڑیوں کی کتنی ہزاروں ہزار نسلیں عبث ضائع ہو گئی ہوں گی۔ان تمام غیر معمولی خصوصیات کے نہ ہونے کے باوجود جوان کو قطب شمالی کے ماحول میں رہنے کے موافق بنا سکتی تھیں اگر یہ نسلیں زندہ رہتیں جیسا کہ وہ لاکھوں سال تک زندہ رہیں تو سوال یہ ہے کہ ان کو ماحول کے مطابق ڈھلنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ تمام جینیاتی تبدیلیوں اور حادثاتی تغیرات کو آخر اتنے لمبے عرصہ تک ایک دوسرے سے مل کر انتخاب طبعی کی خاطر ان تہد بلیوں کی ضرورت ہی کیا تھی جو ان پر ٹھونس دی گئیں؟ مزید برآں اگر برفانی ریچھوں اور لومڑیوں کو ان کے علاقہ سے نکال کر دیگر مقامات پر پائے جانے والے ریچھوں اور لومڑیوں کو ان کی جگہ آباد کر دیا جائے تو سوال پیدا ہوگا کہ آیا وہ اس خطرناک ماحول میں لقمہ اجل بنے بغیر نسلاً بعد نسل زندہ رہ سکیں گے۔اگر وہ خود زندہ رہ سکیں اور اپنی دیگر انواع کی بقا کی بھی خاطر خواہ ضمانت دے سکیں تو کیا برفانی ریچھوں کے تمام ارتقائی عوامل اور ان کے خدو خال میں ہونے والی مخصوص تبدیلیاں غیر ضروری سمجھی جائیں گی۔اب ہم اسی تناظر کا قدرے مختلف پہلو سے جائزہ لیتے ہیں۔قطب شمالی میں پائے جانے والے بے آب و گیاہ ماحول کیلئے یہ ممکن نہیں کہ اس کے اثر سے خلیات کی حیاتیاتی کیمیا (Biochemistry) میں مناسب تبدیلیاں رونما ہو جائیں تا ہم جینز میں بنیادی تبدیلیوں کے بغیر مرحلہ وار یا حادثاتی تغیرات کا مشاہدہ نہیں کیا جاسکتا۔قطب شمالی میں رہنے والے برفانی ریچھوں اور لومڑیوں میں محض ماحول کے زیر اثر ایسی مربوط تبدیلیاں لانے کی صلاحیت ودیعت نہیں کی گئی کہ ان کی سیاہ جلد کے اوپر سفید پشم اگ آئے۔اگلی ٹانگیں چھوٹی اور چھیلی لمبی ہو جائیں۔چھوٹے چھوٹے گول کان پیدا ہو جائیں۔سو گھنے اور دیکھنے کی حس غیر معمولی تیز ہو جائے۔تلووں پر یشم کی گھنی نہ موجود ہو۔نیز ایسے خواص پیدا ہو جائیں کہ وہ ماحول کے مطابق بالوں کا رنگ بدل سکیں اور ان کی جلد کے نیچے چربی کی کئی تہیں بن جائیں۔غرضیکہ چانس کا خلیاتی کیمسٹری کے حوالہ سے اپنا