جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 77
خلافت ثانيه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے روحانی اولا د میں شامل ہے۔" ے۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی نور اللہ مرقدہ نے فرمایا: 77 الفضل لا ہور 26 رنومبر 1947ء) " میں تو چھوٹا تھا۔مولوی شیر علی صاحب نے مجلس ( یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مجلس سے ) سے آکر نا یا تھا کہ۔۔۔۔محمود ایک تیز روشنی والا لیمپ لے کر سڑک پر کھڑا ہے اور سڑک پر اس کی تیز روشنی پڑ رہی ہے۔" _^ فرمایا: ( مکتوب حضرت خلیفہ المسیح الثانی) " کیا تمہیں مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئیوں پر اعتبار نہیں۔اگر نہیں تو تم احمدی کس بات کے ہو۔کیا تمہیں معلوم نہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے سبز اشتہار میں ایک بیٹے کی پیشگوئی کی تھی کہ اس کا ایک نام محمود ہوگا۔دوسرا نام فضل عمر ہوگا۔اور تریاق القلوب میں آپ نے اس پیشگوئی کو مجھ پر چسپاں بھی کیا ہے پس مجھے بتاؤ کہ عمر کون تھا ؟ اگر تمہیں علم نہیں تو سنو وہ دوسرا خلیفہ تھا۔پس میری پیدائش سے پہلے خدا تعالیٰ نے یہ مقدر کر چھوڑا تھا کہ میرے سپر دوہ کام کیا جائے جو حضرت عمرؓ کے سپر د ہوا تھا۔پس اگر مرزا غلام احمد خدا کی طرف سے تھا تو تمہیں اس شخص کے مانے میں کیا عذر ہے جس کا نام اس کی پیدائش سے پہلے عمر رکھا گیا اور میں تمہیں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ حضرت خلیفہ مسیح کی زندگی میں اس پیشگوئی کا مجھے کچھ بھی علم نہ تھا بلکہ بعد میں ہوا۔" و۔( پمفلٹ کون ہے جو خدا کے کام کو روک سکے۔انورالعلوم جلد 2 صفحہ 17-16) پھر آپ نے مشاورت 1936 میں فرمایا: " ( میں ) اس لئے خلیفہ ہوں کہ حضرت خلیفہ اول (اللہ آپ سے راضی ہو ) کی خلافت سے بھی پہلے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خدا تعالیٰ کے الہام سے فرمایا تھا کہ میں خلیفہ ہوں۔پس میں خلیفہ نہیں بلکہ موعود خلیفہ ہوں۔" (رپورٹ مجلس مشاورت 1936 ء صفحہ 17)