جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے

by Other Authors

Page 684 of 736

جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 684

خلافت خامسه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے نہیں پھیلانی۔جب تک اللہ تعالیٰ فیصلہ صادر نہ فرمادے۔684 تاریخ تحریر 13 اکتوبر 2006ء) ۲۰۲ مکرم زبیر احمد بٹ صاحب۔ماڈل کالونی کراچی خاکسار آفس سے گھر آرہا تھا۔دل گرفتہ زبان پر درود شریف اور دعا ئیں جاری تھیں۔اسی اثناء میں میری منزل کی طرف جانے والی بس آگئی اور میں اس میں سوار ہو گیا۔لیکن مسلسل دعاؤں میں مشغول رہا۔اسی کیفیت میں بس میں آنکھ لگ گئی۔کیا دیکھتا ہوں کہ میاں مسرور احمد صاحب بیعت لے رہے ہیں۔میاں وسیم احمد صاحب کا ہاتھ یا مولا ناسلطان محمود انور صاحب کا ہاتھ آپ کے ہاتھ میں تھا۔اسی اثناء میں میری آنکھ کھل گئی۔یہ نظارہ میں نے 2003-04-21 کو دیکھا۔میں نے دل سے دعا کی اے میرے مولا! ہماری جماعت کو اس خلافت کی نعمت کا انعام جو تو نے ہمیں ہمیشہ عطا کیا ہے۔اسے مستقل قائم رکھنا اور تا مرگ ہمیں اس کے سایہ تلے رکھنا۔جب میں گھر پہنچا تو اپنی والدہ محترمہ سے ذکر کیا کہ آج گھر آتے ہوئے راستے میں ہی یہ نظارہ دیکھا ہے۔( تاریخ تحریر 17 فروری 2006ء)۔۔۔۔۔۔۔۔