جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 635
خلافت خامسه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے 635 نماز فجر کے بعد محترم صدر جماعت گنڈا سنگھ مکرم خطیب احمد صاحب میرے پاس کچھ جماعتی خطوط کا جواب لکھوانے کے لئے بیٹھ گئے تو ان سے میں نے اس خواب کا ذکر کیا۔تو کافی دیر خاموش رہنے کے بعد کہنے لگے کہ صدقہ دیں۔تو میں نے حسب توفیق صدقہ دیا۔شام پانچ بجے کے قریب جب میں نماز عصر ادا کرنے کے لئے بیت الذکر میں گیا تو وہاں مکرم لئیق احمد صاحب ہاتھ میں بیگ اٹھائے کھڑے تھے اور کہنے لگے کہ میں ابھی ابھی آیا ہوں۔ابھی ان کو مل ہی رہا تھا کہ محترم صدر صاحب بھی تشریف لے آئے اور بڑی پریشانی کے عالم میں بتایا کہ ابھی ربوہ سے فون آیا ہے کہ حضرت خلیفتہ المسیح الرابع (رحمہ اللہ ) وفات پاگئے ہیں۔اناللہ وانا الیہ راجعون۔یہ خبر سنتے ہی جسم کانپ اُٹھا اور مکرم لئیق احمد صاحب فوراً واپس ربوہ تشریف لے گئے۔محترم صدر صاحب نے مجھے فرمایا کہ آپ کی خواب اسی سلسلہ میں تھی۔لیق احمد صاحب تو آگئے ہیں اب دیکھیں خلیفہ کون بنتا ہے؟ پھر M۔T۔A پر جو نظارہ دنیا نے دیکھا ہے کہ کس طرح لوگ بیت الفضل سے باہرنئی خلافت کا اعلان سنے کے لئے خاموش اور بے چین کھڑے تھے۔مجھے حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ کی وفات کا تو بہت غم تھا۔مگر نئے بننے والے خلیفہ کے متعلق پوری تسلی تھی جو مجھے خدا نے دیکھائی تھی کہ " مرزا مسرور احمد " جب آپ کے خلیفہ بننے کا اعلان ہوا۔تو جسم میں جان آگئی۔کہ اللہ تعالیٰ نے میرا خواب پورا کر دیا۔اور جماعت پھر خلافت سے وابستہ ہوگئی۔الحمد للہ۔تاریخ تحریر 14 نومبر 2005ء)