جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 558
خلافت خامسه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے 558 جب اپریل 2003 ء میں حضرت خلیق مسیح رابع (رحمہ اللہ ) کی وفات ہوئی اور مکرم عطاء المجیب صاحب راشد نے خاکسار کو فون کے ذریعہ انتخاب خلافت کمیٹی کے ممبر ہونے کی اطلاع دی تو اس بھاری ذمہ داری کے احساس سے مجھے جان کے لالے پڑ گئے۔بہت دعائیں کیں اور کروائیں۔جب لندن پہنچے اور مغرب وعشاء کی نمازوں کے بعد جب انتخاب کے لئے بیت فضل میں داخل ہونے کی غرض سے قطار بنا کر کھڑے تھے۔میں نے اپنے پیچھے دیکھا کہ جس شخصیت کو خلیفہ بننے کے لئے میں ووٹ دینا چاہتا تھا وہ شخصیت میرے پیچھے کھڑی ہے میں نے اپنے دل میں کہا کہ جس کو میں خلیفہ کے لئے ووٹ دینا چاہتا ہوں یہ نامناسب لگتا ہے کہ میں اس کے آگے کھڑا ہوں لہذا اس قطار سے نکل کر آخر پر آگیا۔اس وقت دو آدمی آئے ایک چوہدری حمید اللہ صاحب تھے جبکہ دوسری شخصیت کو میں نہیں جانتا تھا لیکن ایک برقی چمک کی سی تیزی سے وہ شخصیت میرے دل میں اتر گئی اور میں سوچنے لگا کہ یہ آخر میں کون؟ اور اس سوچ کا عالم یہ تھا کہ مجھے یوں محسوس ہوا کہ شاید میں بیت میں داخل ہونے سے قبل ہی مر جاؤں گا۔دوران اجلاس مرزا مسرور احمد صاحب کو دیکھ کر میں نے کہا کہ یہ تو وہی ہیں جن کی صورت برق رفتاری سے میرے دل میں اتر چکی ہے لہذا وقت انتخاب میں نے انہیں ہی ووٹ دینے کو ہاتھ کھڑا کیا تو دیکھا کہ اکثریت نے انہی کو ووٹ دیا ہے۔یوں غم کی کیفیت جاتی رہی اور ایسی خوشی نصیب ہوئی کہ مجھے زندگی میں ایسی خوشی کوئی نہیں ملی۔واپسی پر فلسطین میں مکرم ہانی طاہر کے گھر مکرم امجد کمیل سے ملاقات ہوئی جن کے گھر ایم ٹی اے نہیں تھا اور انہوں نے ابھی حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کی تصویر نہیں دیکھی تھی اس ملاقات میں میں نے ان کو حضور کی تصویر دکھائی تو انہوں نے بے ساختہ کہا کہ یہ تو وہی ہیں جن سے میں نے رویا میں ملاقات کی تھی۔حتی