جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 492
خلافت خامسه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے 492 حضرت خلیفہ المسیح کی موجودگی میں خاکساراس طرح کا خواب دیکھنا اور اشارۃ بھی بات کرنا گناہ سمجھتا ہے۔لیکن ایسا تو انسان کے اختیار میں نہیں ، یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ خاکسار حضرت مرزا مسرور احمد صاحب کا نام تک نہیں جانتا تھا اور نہ ہی ان کی کبھی کوئی تصویر دیکھی تھی۔بیداری کے بعد خاکسار نام تو بھول گیا صرف میاں صاحب ہی یادرہا۔یہ خواب خاکسار نے حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ کی خدمت اقدس میں تحریر کر کے بھیج دیا تھا اور معاملہ خدا کے سپر د کر دیا۔وقت گزرتا رہا یہاں تک کہ سال 1999ء جولائی کا مہینہ آ گیا خاکسار کا تقرر پہلی دفعہ نظارت علیاء میں بطور ریلیونگ کارکن ہوا، اور پہلی دفعہ موجودہ حضرت صاحب اس وقت کے ناظر اعلیٰ سے ملاقات ہوئی، ملاقات کرتے ہی فوراً ذہن میں یہ بات آئی کہ یہ کوئی عام انسان نہیں بلکہ یہ خدا تعالیٰ کے برگزیدہ ہیں اور یہی وہ انسان ہیں جن کا خواب میں ذکر ہے ، اور یہ آئندہ خلیفہ وقت ہوں گے۔لیکن دل میں اس خیال کے آنے پر خاکسار نے پھر یہ سوچا کہ ایسا ذکر کرنا اشارہ یا کنایہ گناہ ہے اس لئے اس کا کسی انسان سے ذکر نہیں کیا۔پھر سال 2002 ء کا ذکر ہے کہ خاکسار کی ڈیوٹی دوبارہ نظارت علیاء میں لگ گئی، اس دوران بھی خاکسار نے بہت گہرائی سے محسوس کیا کہ جو خوبیاں حضرت میاں صاحب میں موجود ہیں وہ خلیفہ وقت کی ہی ہیں۔سال 2003 ء اپریل کا مہینہ جہاں غم اور تکلیف کا مہینہ تھا وہاں وہ خوشی کا بھی لمحہ آیا جب خدا تعالیٰ کا اپنے پیارے مسیح سے کیا ہوا وعدہ ایک بار پھر پوری شان سے پورا ہوا۔ہم سب M۔T۔A کے سامنے بیٹھے تھے اور نماز فجر سے پہلے کا وقت جب خلافت خامسہ کا انتخاب ہوا۔مکرم مولانا عطاء المجیب راشد صاحب کا خلافت خامسہ کا اعلان اور حضور انور کی تصویر کا دکھایا جانا ،اس سے فوراً کئی سال پہلے خواب کا نظارہ دوبارہ آنکھوں کے سامنے گھوم گیا کہ یہ تو وہی نظارہ ہے جو خواب میں دیکھا تھا، اس طرح لوگوں کا جم غفیر ہونا، مولانا صاحب کا M۔T۔A پر خلافت خامسہ کا اعلان کرنا اور پھر تصویر کا دکھایا جانا بعینہ وہی نظارہ تھا یہ دیکھتے ہی خاکسار نے