جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے

by Other Authors

Page 474 of 736

جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 474

474 خلافت خامسه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے ہوا۔اب جب کہ میں نے ان کی جگہ ناظر اعلیٰ اور امیر مقامی ان کے صاحبزادے مرزا مسرور احمد صاحب کو بنایا تو میرا اس الہام کی طرف بھی دھیان پھرا کہ گویا آپ اب یہ کہہ رہے ہیں کہ میری جگہ یٹھ۔یہ ساری باتیں ہمیں یقین دلاتی ہیں کہ حضرت صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب کی روح ایک پاک روح تھی ، بہت دلیر انسان، خلافت کے حق میں ایک سوتی ہوئی تلوار تھے۔بے حد بہادر انسان تھے کہ کم دنیا میں اتنے بہادر انسان دیکھنے میں آتے ہیں۔وہم ہوتا تھا تو دوسروں کے متعلق ، اپنے متعلق نہیں، میری بیماری کا خطرہ ،خوف ، اور بچوں کو کہنا خیال رکھیں۔اگر کوئی تاخیر ہو جائے کہیں سے آنے میں مثلاً ایک دفعہ یہ پہلے پہنچ گئے اور مجھے آنا چاہئے تھا مگر دیر سے آیا تو بے انتہا گھبراہٹ تھی ، ٹہلتے پھرتے تھے کہ کیوں نہیں ابھی تک پہنچے۔تو اپنے متعلق بالکل بے خوف اور دوسروں کے متعلق بے حد خوف رکھنے والے کہ کہیں کسی خطرناک واقعہ میں مبتلا نہ ہو گیا ہو، کسی مہلک حادثے کا شکار نہ ہو گیا ہو۔ساری زندگی سادہ گزاری ہے۔بالکل بے لوث انسان اور سادہ زندگی گزارنے والے۔ناظر اعلیٰ بھی اور اپنے بچے مسرور کو ساتھ لے کر زمینوں کا دورہ بھی کر رہے ہیں۔وہاں زمینداروں کے ساتھ بیٹھ کر اسی طرح باتیں کر رہے ہیں۔ذرا بھی ان کے اندر کوئی انانیت نہیں پائی جاتی تھی۔بالکل سادہ لوح ، غذا اگر مزے کی ہے تو اچھی لگے گی پر اگر نہیں بھی ہے تو خوشی سے کھاتے تھے اور ہر چیز میں ایک قناعت پائی جاتی تھی۔پس اس ذکر خیر میں اگر چہ طول ہو گیا ہے لیکن یہ ذکر