جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے

by Other Authors

Page 397 of 736

جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 397

خلافت رابعه : مبشر رویا، خوا ہیں اور الہی اشارے ا۔مکرم سلطان رشید خان صاحب کوٹ فتح خان ضلع اٹک 397 محترم برادرم سردار کرم خان صاحب نے حضرت خلیفہ اصبح الثالث (رحمہ اللہ ) کی المسیح اللہ) وفات سے دو تین ماہ پہلے ایک خواب میں دیکھا۔کہ ایک بہت بڑا میدان ہے۔اور بہت سے لوگ مختلف ٹکڑیوں میں کھڑے اور بیٹھے ہوئے ہیں۔جن میں محترم سردار صاحب بھی شامل ہیں اور یہ تمام لوگ انہیں ایک ایسی مخلوق محسوس ہوتے ہیں۔جو کہ نہایت لطیف قسم کی ہے۔پھر انہوں نے دیکھا کہ سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثالث ( رحمہ اللہ ) تشریف لائے ہیں اور اپنی دستار مبارک اپنے ہاتھوں سے اتار کر کسی شخص کے ہاتھ میں دیتے ہیں اور اشارہ فرماتے ہیں کہ جا کر اس شخص کو پہنا دو۔سردار صاحب کہنے لگے۔کہ نہ تو میں اس شخص کو پہچانتا ہوں۔جسے حضور نے پگڑی دی اور نہ اسے جسے پہنانے کا حکم دیا۔خاکسار نے انہیں صدقہ دینے کے لئے کہا اور خود بھی دیا۔لیکن اللہ تعالی کی مشیت پوری ہو کر رہی۔ربوہ میں جب حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب نے بحیثیت خلیفۃ المسیح حضرت خلیفتہ المسیح الثالث ( رحمہ اللہ ) کی دستار مبارک پہنی تو میں نے سردار صاحب سے کہا کہ خواب والا واقعہ حرف بحرف پورا ہو گیا خاکسار تو صرف یہ سمجھتا تھا۔کہ حضور ( رحمہ اللہ ) کے مقام پر کسی اور شخص کے فائز ہونے کی طرف اشارہ ہے۔لیکن یہ تو پگڑی پہنے کا واقعہ بھی ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا۔الحمد للہ۔بلکہ جب جنازے کے لئے سردار کرم خان صاحب بہشتی مقبرہ کے میدان میں انتظار کر رہے تھے۔تو انہوں نے محسوس کیا کہ یہ وہ میدان تھا جو انہوں نے خواب تاریخ تحریر 26 / مارچ 1982ء) میں دیکھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔