جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے

by Other Authors

Page 389 of 736

جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 389

خلافت رابعه : مبشر رویا، خوا ہیں اور الہی اشارے 389 سارا نظارہ آنکھوں کے سامنے آگیا۔کیا دیکھ رہی ہوں کہ ایک بڑا ہال ہے اور اعلان ہو رہا ہے کہ ہال میں حضرت میاں طاہر احمد صاحب کی تقریر ہے۔نیچے کشادہ سڑک ہے اور اس کے کنارے درخت لگے ہیں اور گائے اور اس کا بچھڑا بھی کنارے پر کیلے کے ساتھ بندھے ہیں۔میں جلدی جلدی سڑک سے ہو کر سیڑھی چڑھ رہی ہوں خیال ہے کہ دیر نہ ہو جائے ہاف ٹائم ہو جائے اور مجھے ٹکٹ نہ ملے۔جلدی جلدی سیڑھی چڑھ کر اوپر آگئی ہوں اور دروازے پر چھوٹی آپا حضرت ما پر آپا مریم صدیقہ صاحبہ سے ٹکٹ لی ہے۔اور بھی خاندان کے افراد ہیں۔اور لوگوں کا جم غفیر ہے۔درمیان میں بڑی کرسی ہے اور اس پر حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد تشریف فرما ہیں۔اور تقریر فرما رہے ہیں۔میں بھی ایک طرف ہو کر بیٹھ گئی ہوں اسی اثناء میں ہاف ٹائم ہو گیا ہے۔ہم گھروں کو واپس آرہے ہیں لگتا ہے کہ دوبارہ جانا ہے۔اسی اثناء میں آنکھ کھل گئی۔( تاریخ تحریر 26/جون 1982ء)۔۔۔۔۔۔۔۔۶۱۔مکرم پروفیسر ظفر اقبال صاحب لیبیا خاکسار نے گزشتہ سال 1981ء کے شروع میں خواب دیکھا کہ حضرت خلیفہ المسیح الثالث ( رحمہ اللہ فوت ہو گئے ہیں۔اور بیت مبارک میں جلسہ ہے باہر بھی لوگوں کا ہجوم ہے۔تھوڑی دیر بعد مولوی جلال الدین شمس صاحب مرحوم اور مولوی ابوالعطاء صاحب مرحوم بہت سینہ چوڑا کر کے رعب کے ساتھ سڑک والے گیٹ سے نکلے ہیں اور کہتے ہیں کہ مرزا طاہر احمد خلیفہ ہو گئے ہیں پھر دونوں غائب ہو جاتے ہیں۔بعد ۂ لوگ بیعت کرتے ہیں اور میں اکیلا رہ