جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے

by Other Authors

Page 332 of 736

جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 332

خلافت رابعه : مبشر رویا، خوا ہیں اور الہی اشارے 332 حیران کھڑا ہوں مجھے اس وقت کچھ سمجھ نہیں آئی کہ یہ کیا ہو رہا ہے انسان سمجھتا ہے کہ اب ملاقات کافی لمبی ہو گئی ہے اب بس کریں۔لیکن وہ چمٹ جاتے ہیں اور چھوڑتے ہی نہیں اسی حالت میں خواب ختم ہوگئی۔صبح اٹھ کر مجھے یاد آیا کہ میں نے یہ دعا کی تھی اس لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ خوشخبری ہے کہ اللہ تعالیٰ نہ صرف اس سفر کو بابرکت کرے گا بلکہ باقی ساری زندگی کو بھی با برکت کرے گا۔دنیا کو جماعت سے جو توقعات ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ہم ان کو پورا کریں گے۔یہ "ہم" کا صیغہ میں اس لئے استعمال کر رہا ہوں کہ وہاں ایک شخص مرزا طاہر احمد مراد نہیں تھا۔میری دعائیں نہ اپنی ذات کے لئے تھیں نہ ایک وجود کے لئے تھیں۔میری دعا ئیں تو اس جماعت کے لئے تھیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی غلامی میں آج اللہ تعالیٰ کی صفات کا مظہر بنی ہوئی ہے اس لئے جماعت سے جو توقعات ہیں وہی اس کے خلیفہ سے ہوتی ہیں اس سے الگ توقعات تو نہیں ہوا کرتیں۔پس میں اس خوشخبری کو ساری جماعت کے لئے سمجھتا ہوں۔" ( الفضل 8 مارچ 1983ء) -ii موجودہ اور آئندہ آنے والی نسلوں کے لئے "السلام علیکم " کا تحفہ: حضور رحمہ اللہ نے اپنے ایک کشف کا ذکر کرتے ہوئے جماعت احمدیہ کی دوسری صدی کے آغاز پر پہلے خطبہ جمعہ مورخہ 24 / مارچ 1989ء کو فرمایا: " وہ خدا جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اس کو گواہ ٹھہرا کر کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے بڑے پیار اور محبت کے ساتھ واضح اور کھلی کھلی آواز میں اس صدی کا پہلا الہام مجھ پر یہ نازل کیا کہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ تا کہ میں اسے تمام دنیا کی جماعتوں کے سامنے پیش کرسکوں۔دنیا چاہے ہزار لعنتیں آپ پر زبانی ڈالتی پھرے۔کروڑ کوششیں کرے آپ کو مٹانے کی مگر اس صدی کے سر پر خدا کی طرف سے نازل ہونے والا سلام ہمیشہ آپ کے سروں پر رحمت