جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے

by Other Authors

Page 108 of 736

جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 108

خلافت ثانيه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے 108 امر کے سمجھنے کے لئے یاد رکھنا چاہئے کہ رویا اور کشوف کبھی بالکل اصل شکل میں پورے ہوتے ہیں اور کبھی وہ تعبیر طلب ہوتے ہیں اور کبھی ان کا ایک حصہ تو اصل رنگ میں ظاہر ہوتا ہے اور ایک حصہ تعبیر طلب ہوتا ہے سو یہ خواب بھی اسی طرح کی ہے اور جہاں اس رویا میں سے چارا مور بالکل صاف اور واضح طور پر پورے ہوئے ایک امر تعبیر طلب بھی تھا لیکن رؤیا کی صداقت پر باقی چارا مور نے مہر کر دی تھی۔اور اس چوتھے امر کی تعبیر یہ تھی کہ بدر اصل میں پندرھویں رات کے چاند کو کہتے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ نے رویا میں ایک قسم کا اخفاء رکھنے کے لئے مارچ کی چودھویں تاریخ کا نام چودھویں کی مشابہت کی وجہ سے بدر رکھا۔اور یہ بتایا کہ یہ واقعہ چودہ تاریخ کو ہوگا۔چنانچہ وصیت با قاعدہ طور پر جو شائع ہوئی یعنی اس کے امین نواب محمد علی خان صاحب نے پڑھ کر سنائی تو چودہ 14 تاریخ کو ہی سنائی اور اسی تاریخ کو خلافت کا فیصلہ ہوا۔" برکات خلافت از انوار العلوم جلد 2 صفحہ 188-186) ۱۵- قبل از وقت کا ایک اشارہ 21-20 / مارچ 1914ء کو آپ نے ایک رؤیا دیکھا جس کا ذکر آپ یوں فرماتے ہیں۔"حضرت مولوی صاحب بیمار ہیں۔آخری دنوں کی حالت سے بہت بہتر حالت ہے۔میں کہتا ہوں مولوی صاحب کو دفن کر کے آئے تھے۔پھر خیال کرتا ہوں کہ جس طرح مسیح ناصری نے پیشگوئی کی تھی اسی طرح مسیح ناصری کے خلیفہ نے دوسرے خلیفہ کے متعلق بعض پیشگوئیاں کی تھیں یہ اس کے مطابق ہورہا ہے۔" ( رؤیاوکشوف سید نامحمودصفحه 33)