رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 539 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 539

539 احسانات ان پر تھے اعلیٰ تمدن اور بہترین اقتصادی تعلیم انہیں دی گئی تھی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر عمل کر کے بھی دکھا دیا تھا پھر بھی وہ گر گئے اور ان کی حالت خراب ہو گئی۔یہ نوٹ انگریزی میں لکھے ہوئے تھے لیکن عجیب بات یہ کہ جو انگریزی لکھی ہوئی تھی وہ بائیں طرف سے دائیں طرف کو نہیں لکھی ہوئی تھی بلکہ دائیں سے بائیں طرف کو لکھی ہوئی تھی لیکن پھر بھی میں اسے پڑھ رہا تھا گو وہ خراب کی لکھی ہوئی تھی اور الفاظ واضح نہیں تھے۔بهر حال کچھ نہ کچھ پڑھ لیتا تھا اس میں سے ایک فقرہ کے الفاظ قریباً یہ تھے۔There reasons were the for it۔There temperament becoming Morbid and anarchical۔یہ فقرہ بتا رہا تھا کہ مسلمانوں پر کیوں تباہی آئی اس فقرہ کے یہ معنے ہیں کہ وہ خرابی جو مسلمانوں میں پیدا ہوئی اس کی وجہ یہ تھی کہ مسلمانوں کی طبائع میں دو قسم کی خرابیاں پیدا ہو گئی تھیں ایک یہ کہ وہ ماریڈ (Morbid) ہو گئے تھے ان نیچرل (Un-natural) اور ناخوشگوار ہو گئے تھے اور دوسرے ان کی ٹنڈنسیز (Tendencies) انار کیکل (Anarchical) ہو ہو گئی تھیں میں نے سوچا کہ واقعہ میں یہ دونوں باتیں صحیح ہیں۔الفضل یکم اپریل 1964ء صفحہ 3۔(نیز دیکھیں۔تفسیر کبیر جلد پنجم حصہ سوم صفحہ نمبر 166 580 1817۔نومبر 1953ء فرمایا : 17 یا 18 نومبر 1953ء کی بات ہے کہ میں نے رویا میں دیکھا کہ میں ایک جگہ پر ہوں میاں بشیر احمد صاحب اور درد صاحب میرے ساتھ ہیں کسی شخص نے مجھے ایک لفافہ لا کر دیا اور کہا کہ یہ چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کا ہے میں نے اس لفافے کو کھولے بغیر یہ محسوس کیا کہ اس میں کسی عظیم الشان حادثے کی خبر ہے جو چوہدری صاحب کی موت کی شکل میں پیش آیا ہے یا کوئی اور بڑا حادثہ ہے میں نے درد صاحب سے کہا لفافہ کو جلدی کھولو اور اس میں سے کاغذ نکالو درد صاحب نے لفافہ کھولا اس میں بہت سے کاغذ نکلتے آتے تھے لیکن اصل بات جس کی خبردی گئی تھی نظر نہیں آتی تھی آخر کا ر لفافہ میں صرف ایک دو کاغذ رہ گئے لیکن اصل خبر کا پتہ نہ لگا۔میاں بشیر احمد صاحب نے کہا۔پتہ نہیں چوہدری صاحب کے دماغ کو کیا ہو گیا ہے وہ ایک اہم خبر