رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 412
412 ہے۔اس کے بعد میں نے دیکھا کہ ایک گاڑی آرہی ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ اس کے اندر وہ لوگ سوار ہیں جن کو بندوق لینے کے لئے بھیجا گیا تھا وہ گاڑی تانگا کی شکل کی ہے مگر دراصل رتھ ہے جب سواریاں اتریں تو میں نے دیکھا کہ اترنے والے شیخ نور الحق صاحب مولوی نورالحق صاحب مبلغ اور میاں بشیر احمد صاحب تھے اور ان کے ہاتھ میں بندوق تھی اس پر میری آنکھ کھل گئی۔میں نے سمجھا کہ نور الحق روشنی کے معنوں میں ہے اور شیخ کے لفظ سے میں اب سمجھتا ہوں کہ نو مسلموں کے لئے عام طور پر شیخ کا لفظ ہی بولا جاتا ہے خود تو وہ نو مسلم نہیں ہیں پرانے زمانہ میں ان کے آباء واجداد میں سے کوئی نو مسلم ہوا ہو تو اور بات ہے بہر حال شیخ نور الحق صاحب مولوی نور الحق صاحب ارمیاں بشیر احمد صاحب تینوں نام ایسے ہیں کہ خواب کے ساتھ گہرا تعلق رکھتے ہیں ان ناموں سے ہندوؤں سے مسلمان ہونے والے اور بیرونی ممالک میں سے مسلمان ہونے والے لوگ مراد ہیں ان کے ساتھ ہی اسلام اور احمدیت کی ترقی کی بھی بشارت ہے۔الفضل 18۔اپریل 1948 ء صفحہ 4-3 فرمایا : یہ خواہیں بتا رہی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے احمدیت کا مستقبل تاریک نہیں جیسے لوگ سمجھتے ہیں یقیناً خدا ہم کو ان مشکلات پر غالب آنے کی توفیق بخشے گا اور یقینا ہم کو نہ صرف ان مشکلات پر غالب آنے کی توفیق بخشے گا بلکہ ہمارے ذریعہ اللہ تعالٰی پھر ہندوستان میں اسلام کی روحانی حکومت قائم کر دے گا اور روحانی حکومت کے قیام کے بعد جسمانی حکومت اس کے تابع ہوا کرتی ہے۔الفضل 18۔اپریل 1948ء صفحہ 5 457 اپریل 1948ء فرمایا : پشاور کے سفر سے پہلے میں نے ایک رؤیا دیکھی تھی جو اس طرح مخفی زبان میں تھی کہ میں خواب میں حیران تھا کہ یہ کیا بات ہے اور اس چیز کا اس قدر مجھ پر اثر تھا کہ جب میں جاگا تب گاتب بھی تھوڑی دیر تک مجھ پر حیرت طاری رہی۔آخر ایک لفظ میرے دل میں ڈالا گیا اور تعبیر مل گئی۔میں نے دیکھا کہ میں قادیان میں ہوں اور وہ پاخانہ جس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ