رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 134
134 گفتگو کروں۔اس کے بعد کوئی وجہ تو مجھے معلوم نہیں مگر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہم اس جگہ کو چھوڑ کر تھوڑے فاصلے پر ہی دوسری جگہ جابیٹھے ہیں اس جگہ کی تبدیلی کی کوئی وجہ معلوم نہیں۔شاید اندھیرا تھا اور ہم روشنی میں آنا چاہتے تھے خیر اس جگہ ان لوگوں میں سے ایک شخص نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی عربی پر اعتراض کئے اور نتیجہ یہ نکالا کہ یہ شخص مامور کس طرح ہو سکتا ہے۔اس وقت مجھے یہ احساس ہے کہ ان میں سے ایک شخص احمدیت سے متاثر ہو چکا ہے اور یہ لوگ اس لئے نہیں آئے کہ خود تحقیق کریں بلکہ ان کی غرض یہ ہے کہ اسے خراب کریں اور ان میں سے ایک ہنس کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتاب لحة النور يا شاید کسی اور کتاب کا نام لیتا اور کہتا ہے کہ وہ کتاب ہو تو ہم اس میں سے حوالہ پڑھ کر بھی سنا سکتے ہیں۔ان کے سوال کے جواب میں میں نے عربی زبان میں جواب دینا شروع کیا اور اس وقت یوں معلوم ہوتا ہے کہ جیسے ایک اہل زبان قادر ہوتا ہے میں بے تکلفی سے عربی زبان میں باتیں کر رہا ہوں اور کوئی حجاب معلوم نہیں ہوتا۔میں نے ان سے کہا کہ اعتراض تو ہر بڑی سے بڑی سچائی پر بھی ہو سکتا ہے کوئی ایسی صداقت نہیں جس پر لوگوں نے اعتراض نہ کئے ہوں اور یہ سوال بے شک آپ کے نزدیک وقیع ہوں مگر میں تو اس وقت چند منٹ سے زیادہ آپ لوگوں کو نہیں دے سکتا ہم نے تو ابھی کھانا بھی نہیں کھایا پھر صبح اسکندریہ جاتا ہے اور وہاں سے واپس آکر حج کے لئے روانہ ہوتا ہے اگر دو چار منٹ میں آپ کے سوالات کا جواب دوں تو اول تو آپ کی تسلی نہیں ہو سکے گی اور اگر ہو بھی جائے تو آپ کہیں گے ابھی فلاں سوال رہ گیا اور اگر میں ان کا جواب نہیں دوں گا آپ کہیں گے آتا نہیں تھا، پھر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان پر اور اعتراض پڑتے ہوں پھر ان کا جواب دینا ضروری ہو گا اور اتنا وقت میرے پاس نہیں اس کا حل میں ایک آسان ترکیب سے کر دیتا ہوں۔ہر صداقت کے متعلق کچھ گر ہوتے ہیں جن سے اس کو پر کھا جا سکتا ہے۔پس قرآن کریم نے جو گر بیان کئے ہیں اگر تو ان کے رو سے یہ ثابت ہو کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا دعوی سچا ہے تو پھر ان اعتراضات کا یہ مطلب ہو گا کہ ہمارے خیال کی غلطی ہے کیونکہ قرآن کریم غلط نہیں ہو سکتا اور اگر ان گروں کے رو سے۔آپ سچے ثابت نہ ہوں تو خواہ ایک بھی اعتراض آپ پر نہ پڑے ، آپ جھوٹے ہوں گے۔پھر میں ان سے کہتا ہوں کہ میں آپ لوگوں کو