روشنی کا سفر

by Other Authors

Page 76 of 104

روشنی کا سفر — Page 76

منقطع نہیں ہوگا اور وہ دوسری قدرت نہیں آسکتی جب تک میں نہ جاؤں لیکن جب میں جاؤں گا تو پھر خدا اُس دوسری قدرت کو تمہارے لئے بھیج دے گا جو ہمیشہ تمہارے ساتھ رہے گی۔“ (رساله الوصیت روحانی خزائن جلد نمبر 20 صفحہ 305-304) ۷۶۔بہشتی مقبرہ کا قیام حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو 1898ء کے قریب ایک کشف ہوا جس کی تفصیل آپ کے الفاظ میں یہ تھی۔” مجھے ایک جگہ دکھلائی گئی کہ یہ تیری قبر کی جگہ ہوگی۔ایک فرشتہ میں نے دیکھا کہ وہ زمین کو ناپ رہا ہے تب ایک مقام پر اس نے پہنچ کر مجھے کہا کہ یہ تیری قبر کی جگہ ہے، پھر ایک جگہ مجھے اور دکھلائی گئی اور اس کا نام بہشتی مقبرہ رکھا گیا اور ظاہر کیا گیا کہ وہ ان برگزیدہ جماعت کے لوگوں کی قبریں ہیں جو بہشتی ہیں“ حضور نے حضرت نواب محمد علی خان صاحب کے نام 16 اگست 1898ء کو ایک مکتوب میں تحریر فر مایا کہ۔”میرے دل میں خیال ہے کہ اپنے اور اپنی جماعت کے لئے خاص طور پر ایک قبرستان بنایا جائے جسطرح میں بسایا گیا تھا۔بقول شیخ سعدی کہ ” بداں را به نیکاں بخشد کریم یہ بھی ایک وسیلہ مغفرت ہوتا ہے جس کو شریعت میں معتبر سمجھا گیا ہے۔اس قبرستان کی فکر میں کہ کہاں بنایا جائے۔امید ہے کہ خدا تعالیٰ کوئی جگہ میسر کر دے اور اس کے اردگر دایک دیوار چاہئے۔“ اس لحاظ سے آپ گو 1898 ء سے ایک خاص قبرستان کی بنیاد کے لئے کوشاں تھے مگر چونکہ موقعہ کی عمدہ زمینیں بہت قیمت سے ملتی تھیں اس لئے یہ غرض مدت دراز تک معرض التواء میں رہی۔بالآخر اللہ تعالیٰ کی مصلحتوں کے ماتحت اس کا قیام دسمبر 1905ء کے آخر میں عمل میں آیا۔بہشتی مقبرہ اور اس میں دفن ہونے کی شرائط کا اعلان حضور نے اپنی ملکیتی زمین الہی حکم کی تعمیل میں مقبرہ کے لئے وقف فرما دی اور رسالہ الوصیت میں اس میں دفن ہونے والوں کے لئے مندرجہ ذیل شرائط کا اعلان فرمایا:۔وو چونکہ اس قبرستان کے لئے بڑی بھاری بشارتیں مجھے ملی ہیں اور نہ صرف خدا نے یہ فرمایا کہ یہ