ضرورة الامام — Page 520
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۵۲۰ ضرورة الامام تمام آمدنی میری جماعت کے لئے خرچ ہوتی ہے ۔ میرے ذاتی خرچ میں نہیں آتی ۔ وہ اس بات کو بھی قبول کرتے ہیں کہ میری اور بھی جائیداد ہے ۔ لیکن تحصیل دار صاحب کے سامنے انہوں نے بیان کیا ہے کہ اس میری جائیداد کی آمدنی بھی جو از قسم زمین ہے۔ اور پیدا وار زراعت ہے اور زیر دفعہ ۵ ( ب ) انکم ٹیکس سے بری ہے ۔ دینی مصارف میں ہی کام آتی ہے ۔ اس شخص کے اظہار نیک نیتی میں مجھے شک کرنے کی کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی ۔ جس کی جماعت کو ہر ایک جانتا ہے میں ان کی چندوں کی آمدنی کو جس کی تعداد وہ ممالیہ (۵۲۰۰ ) بیان کرتے ہیں اور جو محض دینی کاموں میں خرچ ہوتی ہے ۔ زیر دفعہ ۵ ( ای ) انکم ٹیکس سے بری کرتا ہوں ۔ دستخط ٹی ڈیکسن صاحب بہادرکلکٹر ✰✰✰ ۷ ار ستمبر ۹۸ جس کتاب پر دستخط مصنف و مہر نہ ہو تو وہ کتاب مسروقہ ہوگی راقم میرزا غلام احمد مورخه ۲۰ /اکتوبر ۱۸۹۸ء