تحفة الندوہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 117 of 566

تحفة الندوہ — Page 117

روحانی خزائن جلد ۱۹ 112 اعجاز احمدی ضمیمه نزول المسیح بات بات میں افتر ا سے کام لیتے ہیں جیسا کہ مولوی ثناء اللہ نے موضع مد کی بحث میں یہی کارروائی کی اور دھوکا دے کر کہا کہ دیکھو اس شخص نے اپنی ایک پیشگوئی میں لکھا تھا کہ لڑکا پیدا ہو گا مگر لڑکی پیدا ہوئی اور بعد میں لڑکا پیدا ہو کر مر گیا اور پیشگوئی جھوٹی نکلی۔ اب ان بھلے مانسوں سے کوئی پوچھے کہ اگر تمہارے بیان میں کوئی بے ایمانی اور جھوٹ نہیں تو تم وہ الہام شائع کردہ پیش کرو جس میں خدا خبر دیتا ہو کہ ضرور اب کے دفعہ لڑکا پیدا ہوگا یا یہ خبر دیتا ہو کہ لڑکی کے بعد پیدا ہونے والا وہی موعود لڑ کا ہے نہ اور کوئی ۔ اگر ہم نے یہ خیال بھی کیا ہو کہ شاید یہ لڑکا وہی ہے تو ہمارا خیال کیا چیز ہے جب تک کھلی کھلی وحی الہی نہ ہو۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے نفس کے خیال سے یہ گمان کیا تھا کہ یمامہ کی طرف میری ہجرت ہوگی مگر وہ خیال صحیح نہ نکلا اور آخر مدینہ کی طرف ہجرت ہوئی۔ اور اگر پیشگوئی میں یہ ضرور تھا کہ پہلے حمل سے ہی وہ لڑکا پیدا ہوگا تو وحی الہی میں یہ الفاظ ہونے چاہئے تھے مگر کیا کوئی دکھلا سکتا ہے کہ وحی میں کوئی ایسا لفظ تھا۔ دیکھو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت بنی اسرائیل کے کئی نبیوں نے پیشگوئیاں کی تھیں کہ وہ پیدا ہو گا مگر بہت سے نبیوں کے آنے کے بعد سب کے آخر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے ۔ اب کیا کوئی اعتراض کر سکتا ہے کہ ان نبیوں کی پیشگوئیاں جھوٹی نکلیں 19 کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم موسیٰ کے بعد پورے دو ہزار برس گزرنے کے بعد پیدا ہوئے حالانکہ توریت کی پیشگوئی کی رو سے یہودی خیال کرتے تھے کہ وہ نبی جلد پیدا ہو جائے گا اور ایسا نہ ہوا بلکہ درمیان میں کئی نبی آئے۔ پس ایسے اعتراض یا تو دیوانہ کرتا ہے اور یا نہایت درجہ کا خبیث انسان جس کو خدا کا خوف نہیں۔ یہی باتیں مولوی ثناء اللہ نے مقام مد کے مباحثہ میں پیش کی تھیں۔ ان باتوں سے ہر ایک خدا ترس سمجھ سکتا ہے کہ کہاں تک ان مولوی صاحبوں کی نوبت پہنچ گئی ہے۔ وہ جوش تعصب سے منہاج نبوت کو اور اُس معیار کو جو نبیوں کی شناخت کے لئے مقرر ہے پیش نظر نہیں رکھتے اور ہر ایک اعتراض ان کا سراسر جھوٹ اور شیطانی منصوبہ ہوتا ہے۔ اگر یہ بچے ہیں تو قادیان میں آکر کسی پیشگوئی