تحفة الندوہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 113 of 566

تحفة الندوہ — Page 113

روحانی خزائن جلد ۱۹ ۱۱۳ اعجاز احمدی ضمیمه نزول المسیح وجی سے بیان کرتا ہوں اور مجھے کب اس بات کا دعوی ہے کہ میں عالم الغیب ہوں جب تک مجھے خدا نے اس طرف توجہ نہ دی اور بار بار نہ سمجھایا کہ تو مسیح موعود ہے اور عیسی فوت ہو گیا ہے تب تک میں اس عقیدہ پر قائم تھا جو تم لوگوں کا عقیدہ ہے۔ اسی وجہ سے کمال سادگی سے میں نے حضرت مسیح کے دوبارہ آنے کی نسبت براہین میں لکھا ہے۔ جب خدا نے مجھے پر اصل حقیقت کھول دی تو میں اس عقیدہ سے باز آ گیا۔ میں نے بجز کمال یقین کے جو میرے دل پر محیط ہو گیا اور مجھے نور سے بھر دیا اُس رقمی عقیدہ کو نہ چھوڑا حالانکہ اسی براہین میں میرا نام عیسی رکھا گیا تھا اور مجھے خاتم الخلفاء پھہرایا گیا ہے تھا اور میری نسبت کہا گیا تھا کہ تو ہی کسر صلیب کرے گا۔ اور مجھے بتلایا گیا تھا کہ تیری خبر قرآن اور حدیث میں موجود ہے اور تو ہی اِس آیت کا مصداق ہے کہ هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُوْلَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِم تاہم یہ الہام جو براہین احمدیہ میں کھلے کھلے طور پر درج تھا خدا کی حکمت عملی نے میری نظر سے پوشیدہ رکھا اور اسی وجہ سے باوجود یکہ میں براہین احمدیہ میں صاف اور روشن طور پر مسیح موعود ٹھہرایا گیا تھا مگر پھر بھی میں نے بوجہ اس ذہول کے جو میرے دل پر ڈالا گیا حضرت عیسی کی آمد ثانی کا عقیدہ براہین احمدیہ میں لکھ دیا۔ پس میری کمال سادگی اور ذہول پر یہ دلیل ہے کہ وحی الہی مندرجہ براہین احمدیہ تو مجھے مسیح موعود بناتی تھی مگر میں نے اس رسمی عقیدہ کو براہین میں لکھ دیا۔ میں خود تعجب کرتا ہوں کہ میں نے باوجود کھلی کھلی وحی کے جو براہین احمدیہ میں مجھے مسیح موعود بناتی تھی کیونکر اسی کتاب میں یہ رسمی عقیدہ لکھ دیا۔ پھر میں قریباً بارہ برس تک جو ایک زمانہ دراز ہے بالکل اس سے بے خبر اور غافل رہا کہ خدا نے مجھے بڑی شدومد سے براہین میں مسیح موعود قرار دیا ہے اور میں حضرت عیسی کی آمد ثانی کے رسمی عقیدہ پر جما رہا۔ جب بارہ برس گزر گئے تب وہ وقت آگیا کہ میرے پر اصل حقیقت کھول دی جائے تب تواتر سے اس بارہ میں الہامات شروع ہوئے کہ تو ہی مسیح موعود ہے۔ پس جب اس بارہ میں انتہا تک خدا کی وحی پہنچی اور مجھے حکم ہوا کہ فاصدع بما تؤمر یعنی جو تجھے حکم ہوتا ہے وہ کھول کر لوگوں کو سنادے اور بہت سے نشان مجھے دیئے گئے اور میرے دل میں روزِ روشن الصف: ١٠