تحفہٴ بغداد — Page 49
روحانی خزائن جلدے ۴۹ كرامات الصادقين بغیر کسی حیلہ وحجت کے میرے ان قصائد اور تفسیر کے مقابل پر عرصہ ایک ماہ تک اپنے قصائدے اور تفسیر شائع نہ کی تو پھر ہمیشہ کے لئے اس قوم سے اعراض کرونگا۔ اور اگر اس رسالہ کے مقابل پر میاں بطالوی یا کسی اور اُن کے ہم مشرب نے سیدھی نیت سے اپنی طرف سے قصائد اور تفسیر سورہ فاتحہ تالیف کر کے بصورت رسالہ شائع کر دی تو میں سچے دل سے وعدہ کرتا ہوں کہ اگر ثالثوں کی شہادت سے یہ ثابت ہو جاوے کہ ان کے قصائد اور ان کی تفسیر جو سورہ فاتحہ کے دقائق اور حقائق کے متعلق ہوگی میرے قصائد اور میری تفسیر سے جو اسی سورہ مبارکہ کے اسرار لطیفہ کے بارہ میں ہے ہر پہلو سے بڑھ کر ہے تو میں ہزار روپیہ نقد اُن میں سے ایسے شخص کو دوں گا جو روز اشاعت سے ایک ماہ کے اندر ایسے قصائد اور ایسی تفسیر بصورت رسالہ شائع کرے اور نیز یہ بھی اقرار کرتا ہوں کہ بعد بالمقابل قصائد اور تفسیر شائع کرنے کے اگر ان کے قصائد اور ان کی تغییر نحوی وصرفی اور علم بلاغت کی غلطیوں سے مبرا نکلے اور میرے قصائد اور تفسیر سے بڑھ کر نکلے تو پھر باوصف اپنے اس کمال کے اگر میرے قصائد اور تفسیر بالمقابل کے کوئی غلطی نکالیں گے تو فی غلطی پانچ روپیہ انعام بھی دوں گا۔ مگر یادر ہے کہ نکتہ چینی آسان ہے ایک جاہل بھی کر سکتا ہے مگر نکتہ نمائی مشکل تفسیر لکھنے کے وقت یہ یادر ہے کہ کسی دوسرے شخص کی تفسیر کی نقل منظور نہیں ہوگی بلکہ وہی تفسیر لائق منظوری ہوگی جس میں حقائق و معارف جدیدہ ہوں بشرطیکہ کتاب اللہ اور فرمودہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مخالف نہ ہوں۔ اللہ جل شانۂ قرآن کریم کی تعریف میں صاف فرماتا ہے کہ اس میں ہر یک چیز کی تفصیل ہے پھر معارف اور حقائق کا کوئی حصہ کیونکر اس سے باہر رہ سکتا ہے۔ ماسوا اس کے خدا تعالیٰ کا قانون قدرت بھی یہی شہادت دے رہا ہے کہ جو کچھ اس سے صادر ہوا ہے خواہ ایک مکھی ہو وہ بے انتہا عجائبات اپنے اندر رکھتا ہے پھر کیا ایک ایماندار یہ رائے ظاہر کر سکتا ہے کہ ایک مکھی یا مچھر کی بناوٹ تو ایسی اعلیٰ درجہ کی ہے کہ اگر قیامت تک تمام فلاسفر اُس کے خواص عجیبہ کے دریافت