تحفۂ گولڑویہ — Page 43
روحانی خزائن جلد ۱۷ ۴۳ ضمیمه تحفه گوار و به اور جن لوگوں کو اسلام کی کتابوں پر نظر ہے وہ خوب جانتے ہیں کہ آج تک علماء امت میں سے کسی نے یہ اعتقاد ظاہر نہیں کیا کہ کوئی مفتری علی اللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح تئیس برس تک زندہ رہ سکتا ہے بلکہ یہ تو صریح آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی عزت پر حملہ اور کمال بے ادبی ہے اور خدا تعالیٰ کی پیش کردہ دلیل سے استخفاف ہے۔ ہاں اُن کا یہ حق تھا کہ مجھ سے اس کا ثبوت مانگتے کہ میرے دعوی مامور من اللہ ہونے کی مدت تیس برس یا اس سے زیادہ اب تک ہو چکی ہے یا نہیں مگر حافظ صاحب نے مجھ سے یہ ثبوت نہیں مانگا کیونکہ 400 حافظ صاحب بلکہ تمام علماء اسلام اور ہندو اور عیسائی اس بات کو جانتے ہیں کہ براہین احمدیہ جس میں یہ دعویٰ ہے اور جس میں بہت سے مکالمات الہیہ درج ہیں اس کے شائع ہونے پر اکیس برس گذر چکے ہیں اور اسی سے ظاہر ہوتا ہے کہ قریباً تمہیں برس سے یہ دعویٰ مکالماتِ الہیہ شائع کیا گیا ہے اور نیز الہام اليْسَ اللهُ بِكَافٍ عَبْدَہ جو میرے والد صاحب کی وفات پر ایک انگشتری پر کھودا گیا تھا اور امرتسر میں ایک مہر کن سے کھدوایا گیا تھا وہ انگشتری اب تک موجود ہے اور وہ لوگ موجود ہیں جنہوں نے طیار کروائی اور براہین احمدیہ موجود ہے جس میں یہ الہام الیس الله بکاف عبدہ لکھا گیا ہے اور جیسا کہ انگشتری سے ثابت ہوتا ہے یہ بھی چھبیس برس کا زمانہ ہے۔ غرض چونکہ یہ میں سال تک کی مدت براہین احمدیہ سے ثابت ہوتی ہے اور کسی طرح مجال انکار نہیں۔ اور اسی براہین کا مولوی محمد حسین نے ریویو بھی لکھا تھا لہذا حافظ صاحب کی یہ مجال تو نہ ہوئی کہ اس امر کا انکار کریں جو اکیس سال سے براہین احمدیہ میں شائع ہو چکا ہے نا چار قرآن شریف کی دلیل پر حملہ کر دیا کہ مثل مشہور ہے کہ مرتا کیا نہ کرتا۔ سو ہم اس اشتہار میں حافظ محمد یوسف صاحب سے وہ نظیر طلب کرتے ہیں جس کے پیش کرنے کا انہوں نے اپنی دستخطی تحریر میں وعدہ کیا ہے۔ ہم یقیناً جانتے ہیں کہ قرآنی دلیل کبھی ٹوٹ نہیں سکتی۔ یہ خدا کی پیش کردہ دلیل ہے نہ کسی انسان کی ۔ کئی کم بخت بد قسمت دنیا میں آئے اور انہوں نے قرآن کی اس دلیل کو توڑنا چاہا مگر آخر آپ ہی دنیا سے رخصت ہو گئے ۔