تحفۂ گولڑویہ — Page 25
روحانی خزائن جلد۱۷ ۲۵ گورنمنٹ انگریزی اور جہاد گناہ ہے تو اس کا جواب با دب ہم یہ دیتے ہیں کہ ضرور ایک گناہ ہے چاہو قبول کرو یا نہ کرو اور وہ یہ کہ جب ہم ایک طرف سرحدی وحشی قوموں میں غازی بننے کا شوق دیکھتے ہیں تو دوسری طرف اس ملک کے مولویوں میں اپنی گورنمنٹ اور اس کے انگریزی حکام کی سچی ہمدردی کی نسبت وہ حالت ہمیں نظر نہیں آتی اور نہ وہ جوش دکھائی دیتا ہے۔ اگر یہ اس گورنمنٹ عالیہ کے بچے خیر خواہ ہیں تو کیوں بالاتفاق ایک فتوی طیار کر کے سرحدی ملکوں میں شائع نہیں کرتے تا ان نادانوں کا یہ عذر ٹوٹ جائے کہ ہم غازی ہیں اور ہم مرتے ہی بہشت میں جائیں گے۔ میں سمجھ نہیں سکتا کہ مولویوں اور اُن کے پیروؤں کا اس قدر اطاعت کا دعویٰ اور پھر کوئی عمدہ خدمت نہیں دکھلا سکتے بلکہ یہ کلام تو بطریق تنزّل ہے۔ بہت سے مولوی ایسے بھی ہیں جن کی نسبت اس سے بڑھ کر اعتراض ہے۔ خدا ان کے دلوں کی اصلاح کرے ۔ غرض مخلوق کے حقوق کی نسبت ہماری قوم اسلام میں سخت ظلم ہو رہا ہے ۔ جب ایک محسن بادشاہ کے ساتھ یہ سلوک ہے تو پھر اوروں کے ساتھ کیا ہوگا ۔ پس خدا نے آسمان پر اس ظلم کو دیکھا۔ اس لئے اُس نے اس کی اصلاح کے لئے حضرت عیسی مسیح کی خو اور طبیعت پر ایک شخص کو بھیجا اور اس کا نام اس طور سے مسیح رکھا جیسا کہ پانی یا آئینہ میں ایک شکل کا جو عکس (۴) پڑتا ہے اس عکس کو مجاز ا کہہ سکتے ہیں کہ یہ فلاں شخص ہے کیوں کہ یہ تعلیم جس پر اب ہم زور دیتے ہیں یعنی یہ کہ اپنے دشمنوں سے پیار کرو اور خدا کی مخلوق کی عموماً بھلائی چاہو ۔ اس تعلیم پر زور دینے والا وہی بزرگ نبی گذرا ہے جس کا نام عیسی مسیح ہے۔ اور اس زمانہ میں بعض مسلمانوں کا یہ حال ہے کہ بجائے اس کے کہ وہ اپنے دشمنوں سے پیار کریں ناحق ایک قابل شرم مذہبی بہانہ سے ایسے لوگوں کو قتل کر دیتے ہیں جنہوں نے کوئی بدی اُن سے نہیں کی بلکہ نیکی کی ، اس لئے ضرور تھا کہ ایسے لوگوں کی اصلاح کے لئے ایک ایسا شخص خدا سے الہام پا کر پیدا ہو جو حضرت مسیح کی خو اور طبیعت اپنے اندر رکھتا ہے اور صلح کاری کا پیغام لے کر آیا ہے۔ کیا اس زمانہ میں ایسے شخص کی ضرورت نہ تھی جو عیسی مسیح کا اوتار ہے؟ بیشک ضرورت تھی ۔