تحفۂ گولڑویہ — Page 330
روحانی خزائن جلد ۱۷ ۳۳۰ تحفہ گولڑو به فتوے ہوتے ہیں اور جن کے وعظوں پر عوام افروختہ ہو جاتے ہیں۔ اسی واسطے قرآن شریف میں ایسے یہودیوں کی اس گدھے سے مثال دی ہے جو کتابوں سے لدا ہوا ہو ۔ ظاہر ہے کہ عوام کو کتابوں سے کچھ سرور کا رنہیں۔ کتا ہیں تو مولوی لوگ رکھا کرتے ہیں۔ لہذا یہ بات یاد رکھنے کے لائق ہے کہ جہاں انجیل اور قرآن اور حدیث میں یہودیوں کا ذکر ہے وہاں ان کے مولوی اور علماء مراد ہیں۔ اور اسی طرح غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ کے لفظ سے عام مسلمان مراد نہیں ہیں بلکہ اُن کے مولوی مراد ہیں۔ اور پھر ہم اصل ذکر کی طرف رجوع کر کے کہتے ہیں کہ چونکہ عیسائیوں اور یہودیوں کی کتابوں میں بکثرت یہ اشارات پائے جاتے ہیں کہ اسی ہجرت کی چودھویں صدی میں ۱۳۷) مسیح موعود کا ظہور ہوگا۔ اسی لئے بہتوں نے عیسائیوں میں سے حال کے زمانہ میں اس بات پر زور دیا ہے کہ مسیح موعود کے ظہور کے یہی دن ہیں چنانچہ اخبار فری تھنکر لنڈن ۷ اکتوبر ۱۹۰۰ ء میں یہ خبر لکھی ہے کہ عام انتخاب ممبران پارلیمنٹ کے وقت ایک سینٹ سے جو مقام اسلنگٹن کا باشندہ تھا جب رائے لینے والے نے دریافت کیا تو اس نے انتخاب کے بارے میں کچھ رائے نہ دی اور اپنی رائے نہ دینے کی سنجیدگی سے یہ وجہ بیان کی کہ اس سال کے ختم ہونے سے پہلے قیامت کا دن یعنی مسیح کی دوبارہ آمد کا دن آنے والا ہے اس لئے یہ تمام باتیں بے سود ہیں۔“ ایسا ہی کتاب ہر گلوریس اسپیئر نگ مطبوعہ لنڈن ساری کتاب اور رسالہ کرائسٹس سیکنڈ کمنگ مطبوعہ لنڈن صفحہ نمبر ۱۵ اور رسالہ دی کمنگ آف دی لارڈ مطبوعہ لنڈن صفحہ نمبر میں مسیح موعود کی آمد ثانی کی نسبت یہ عبارتیں ہیں: اب عنقریب دنیا میں ایک نہایت عظیم الشان we stand on the eve of one of the واقعہ ہونے والا ہے ۔ چاروں طرف سے اس کے greatest events the world has ever witnessed۔ Signs are multiplying on واسطے نشان جمع ہو رہے ہیں۔ ایسے نشان every side of us, compared with