تحفۂ گولڑویہ — Page 270
۱۰۵ روحانی خزائن جلد ۱۷ ۲۷۰ تحفہ گولڑویہ اپنا مظہر بنایا اور اسلام پر ایک سخت حملہ کیا اور خدا نے اپنے اسم اعظم کا ایک شخص کو اس کا ذکر ہے یعنی سورۃ اخلاص اور سورۃ فلق اور سورۃ ناس میں صرف یہ فرق ہے کہ سورۃ اخلاص میں تو اس قوم کی اعتقادی حالت کا بیان ہے۔ جیسا کہ فرمایا قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ اللَّهُ الصَّمَدُ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا اَحَدٌ یعنی خدا ایک ہے اور احد ہے یعنی اس میں کوئی ترکیب نہیں نہ کوئی اس کا بیٹا اور نہ وہ کسی کا بیٹا اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے۔ پس اس سورۃ میں تو اس قوم کے عقائد بتلائے گئے ۔ پھر اس کے بعد سورۃ فلق میں یہ اشارہ کیا گیا کہ یہ قوم اسلام کے لئے خطرناک ہے اور اس کے ذریعہ سے آخری زمانہ میں سخت تاریکی پھیلے گی اور اس زمانہ میں اسلام کو ایک بڑے شر کا سامنا ہو گا۔ اور یہ لوگ معضلات اور دقائق دین میں گرہ در گرہ دے کر مکار عورتوں کی طرح لوگوں کو دھوکا دیں گے اور یہ تمام کاروبار محض حسد کے باعث ہوگا جیسا کہ قابیل کا کاروبارحسد کے باعث تھا۔ فرق صرف یہ ہے کہ قابیل نے اپنے بھائی کا خون زمین پر گرایا مگر یہ لوگ بباعث جوش حسد سچائی کا خون کریں گے ۔ غرض سورۃ قُلْ هُوَ اللهُ اَحَدٌ میں ان لوگوں کے عقائد کا بیان ہے اور سورۃ فلق میں ان لوگوں کے ان اعمال کی تشریح ہے جو قوت اور طاقت کے وقت ان سے ظاہر ہوں گے۔ چانچہ دونوں سورتوں کو بالمقابل رکھنے سے صاف سمجھ آتا ہے کہ پہلی سورۃ یعنی سورۃ اخلاص میں قوم نصاری کے اعتقادی حالات کا بیان ہے اور دوسری سورۃ میں عملی حالات کا ذکر ہے۔ اور سخت تاریکی سے آخری زمانہ کی طرف اشارہ ہے جبکہ یہ لوگ اس روح کے مظہر ا تم ہوں گے جو خدا کی طرف سے مضل ہے اور ان دونوں سورتوں کے بالمقابل لکھنے سے جلد تر ان لطیف اشارات کا علم ہو سکتا ہے۔ مثلا مقابل پر رکھ کر یوں پڑھو :قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ اللَّهُ الصَّمَدُ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ : کہہ وہ معبود حقیقی جس کی طرف سب چیزیں کہہ میں پناہ مانگتا ہوں اس رب کی جس نے الاخلاص : ۲ تا ۵ ۲ الفلق : ۲