تحفۂ گولڑویہ — Page 255
۲۵۵ روحانی خزائن جلد ۱۷ صلی اللہ علیہ وسلم کامل مہدی تھے اور آپ سے دوسرے درجہ پر موسیٰ مہدی تھا جس نے خدا سے علم پا کر بنی اسرائیل کے لئے شریعت کی بنیاد ڈالی اور نیز آنحضرت اس وجہ سے بھی مہدی تھے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام کامیابیوں کی راہیں آپ پر کھول دیں اور جو لوگ مخالفوں میں سے سنگ راہ تھے ان کا استیصال کیا اور ان معنوں کے رو سے بھی آپ سے دوسرے درجہ پر حضرت موسیٰ بھی مہدی تھے کیونکہ خدا نے موسیٰ کے ہاتھ پر بنی اسرائیل کی راہ کھول دی اور فرعون وغیرہ دشمنوں سے ان کو نجات دے کر منزل مقصود تک پہنچایا اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور موسیٰ کے مہدی ہونے میں دونوں معنوں کے رو سے (۹۷) مماثلت تھی یعنی ان دونوں پاک نبیوں کے لئے کامیابی کی راہ بھی دشمنوں کے استیصال سے کھولی گئی اور خدا تعالیٰ کی طرف سے شریعت کی تمام راہیں سمجھائی گئیں اور قرونِ اولیٰ کو کا لعدم کر کے دونوں شریعتوں کی نئی بنیاد ڈالی گئی اور نئے سرے تمام عمارت بنائی گئی لیکن کامل اور حقیقی مہدی دنیا میں صرف ایک ہی آیا ہے جس نے بغیر اپنے رب کے کسی استاد سے ایک حرف نہیں پڑھا مگر بہر حال چونکہ قرون اولیٰ کے ہلاک کے بعد جن کا مفصل علم ہمیں دیا نہیں گیا شریعت کی بنیاد ڈالنے والا اور خدا سے علم پا کر ہدایت یافتہ موسیٰ تھا جس نے حتی الوسع غیر معبودوں کا نقش مٹایا اور دین پر حملہ کرنے والوں کو ہلاک کیا اور اپنی قوم کو امن بخشا اس لئے حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو موسیٰ کی نسبت ہر ایک پہلو سے مہدی کامل ہے لیکن وہ موسیٰ کی زمانی سبقت کی وجہ سے موسیٰ کا مثیل کہلاتا ہے کیونکہ جس طرح حضرت موسیٰ نے مخالفین کو ہلاک کر کے اور خدا سے ہدایت پا کر ایک بھاری شریعت کی بنیاد ڈالی اور خدا نے موسیٰ کی راہ کو ایسا صاف کیا کہ کوئی اس کے مقابل ٹھہر نہ سکا اور نیز ایک لمبا سلسلہ خلفاء کا اس کو عطا کیا۔ یہی رنگ اور یہی صورت اور اسی سلسلہ کے مشابہ سلسلہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا گیا۔ پس موسیٰ اور محمد صلے اللہ علیہ وسلم میں ایک مماثلت عظمی ہے اور اس مماثلت میں