تحفۂ گولڑویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 234 of 615

تحفۂ گولڑویہ — Page 234

روحانی خزائن جلد۱۷ ۲۳۴ کرنا اور بارش کو بند کر دینا اور پانی بکثرت پیدا کرنا اور پانی کو خشک کر دینا۔ اور ہوا کا چلانا اور ہوا کو بند کر دینا اور کانوں کے ہر ایک قسم کے جواہر کو اپنی دستکاری سے پیدا کر لینا غرض مخلوقات کے تمام افعال طبعیہ پر قبضہ کر لینا۔ یہاں تک کہ انسانی نطفہ کوکسی پرکاری کے ذریعہ سے جس رحم میں چاہیں ڈال دینا اور اس سے حمل ٹھہرانے کے لئے کامیاب ہو جانا اور کسی طور سے مُردوں کو زندہ کر دینا اور عمروں کو بڑھا دینا اور غیب کی باتیں معلوم کر لینا اور تمام نظام طبعی پر تصرف تام کر لینا اُن کے ہاتھ میں آجائے اور کوئی بات اُن کے آگے انہونی نہ ہو۔ پس جبکہ ادب ربوبیت اور عظمت الوہیت اُن کے دلوں پر سے بکلی اُٹھ جائے گی اور خدائی تقدیروں کو ٹالنے کے لئے بالمقابل جنگ کرنے والے کی طرح تدابیر اور اسباب تلاش کرتے رہیں گے تو وہ آسمان پر ایسے ہی سمجھے جائیں گے کہ گویا وہ خدائی کا دعوی کر رہے ہیں اور مجھے اُس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ یہی معنے حق ہیں۔ اور جو دجال کی آنکھوں کی نسبت حدیثوں میں آیا ہے کہ ایک آنکھ اُس کی بالکل اندھی ہوگی اور ایک میں پھولا ہو گا اس کے یہ معنے ہیں کہ وہ گروہ جو د خالی صفات سے موسوم ہو گا اُس کا یہ حال ہوگا کہ ایک آنکھ اُس کی تو کم دیکھے گی اور حقائق کے چہرے اُس کو دھندلے نظر آئیں گے مگر دوسری آنکھ بالکل اندھی ہوگی وہ کچھ بھی دیکھ نہیں سکے گی جیسا کہ یہ قوم جو نظر کے سامنے ہے تو ریت پر تو کسی قدر ایمان لاتی ہے گو ناقص اور غلط طور پر مگر قرآن شریف کو دیکھ نہیں سکتے گویا اُن کی ایک آنکھ میں انگور کے دانے کی طرح ٹینٹ پڑا ہوا ہے مگر دوسری آنکھ جس سے قرآن شریف کود یکھنا تھا بالکل اندھی ہے۔ یہ کشفی رنگ میں دجال کی صورت ہے اور اس کی تعبیر یہ ہے کہ وہ لوگ خدا تعالیٰ کی آخری کتاب کو بالکل شناخت نہیں کریں گے۔ اور ظاہر ہے کہ اس تاویل کی رو سے جو بالکل معقول اور قرین قیاس ہے کسی نئے دجال کی تلاش کی ضرورت نہیں بلکہ جس گروہ نے قرآن شریف کی تکذیب کی اور جن کو خدا نے کتاب دی اور پھر