تحفۂ گولڑویہ — Page 203
روحانی خزائن جلد۱۷ ٢٠٣ وہ حضرت عیسی علیہ السلام کی طرح قوم کے ہاتھ سے دکھ اُٹھائے اور اس پر کفر کا فتویٰ لکھا (۲۹) جاوے اور اس کے قتل کے ارادے کئے جائیں اس لئے ترحم کے طور پر تمام مسلمانوں کو ان میں بھی بڑی تحقیق کے ساتھ نظیروں کو پیش کیا ہے ۔ ہندؤوں کی کتابوں کے لفظ چندر بنسی اور سورج بنسی در حقیقت انہی امور کی طرف اشارات ہیں۔ پس اس قسم کی پیدائش صرف اپنے اندر ایک ندرت رکھتی ہے۔ جیسے تو ام میں ایک ندرت ہے اس سے زیادہ نہیں۔ یہ نہیں کہہ سکتے کہ بغیر باپ پیدا ہونا ایک ایسا امر فوق العادت ہے جو حضرت عیسی علیہ السلام سے خصوصیت رکھتا ہے۔ اگر یہ امر فوق العادت ہوتا اور حضرت عیسی علیہ السلام سے ہی مخصوص ہوتا تو خدا تعالیٰ قرآن شریف میں اس کی نظیر جو اس سے بڑھ کر تھی کیوں پیش کرتا اور کیوں فرماتا إِنَّ مَثَلَ عِیسی عِنْدَ اللهِ كَمَثَلِ ادَمَ خَلَقَهُ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ لا یعنی حضرت عیسی | علیہ السلام کی مثال خدا تعالیٰ کے نزدیک ایسی ہے جیسے آدم کی مثال کہ خدا نے اس کو مٹی سے جو تمام انسانوں کی ماں ہے پیدا کیا اور پھر اس کو کہا کہ ہو جا تو وہ ہو گیا یعنی جیتا جاگتا ہو گیا۔ اب (19) ظاہر ہے کہ کسی امر کی نظیر پیدا ہونے سے وہ امر بے نظیر نہیں کہلا سکتا۔ اور جس شخص کے کسی عارضہ ذاتی کی کوئی نظیر مل جائے تو پھر وہ شخص نہیں کہہ سکتا کہ یہ صفت مجھ سے مخصوص ہے۔ اسی مضمون کے لکھنے کے وقت خدا نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ یلاش خدا کا ہی نام ہے۔ یہ ایک نیا الہامی | لفظ ہے کہ اب تک میں نے اسکو اس صورت پر قرآن اور حدیث میں نہیں پایا اور نہ کسی لغت کی کتاب میں دیکھا۔ اس کے معنے میرے پر یہ کھولے گئے کہ یا لا شریک۔ اس نام کے الہام سے یہ غرض ہے کہ کوئی انسان کسی ایسی قابل تعریف صفت یا اسم یا کسی فعل سے مخصوص نہیں ہے جو وہ صفت یا اسم یا فعل کسی دوسرے میں نہیں پایا جاتا۔ یہی سر ہے جس کی وجہ سے ہر ایک نبی کی صفات اور معجزات اظلال کے رنگ میں اس کی اُمت کے خاص لوگوں میں ظاہر ہوتی ہیں جو اس کے ال عمران: ۶۰