تحفۂ گولڑویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 80 of 615

تحفۂ گولڑویہ — Page 80

روحانی خزائن جلد۱۷ ۸۰ ضمیمہ تحفہ گولڑویہ اب سال ستر کا بھی صدی سے گذر گئے تم میں سے ہائے سوچنے والے کدھر گئے تھوڑے نہیں نشاں جو دکھائے گئے تمہیں کیا پاک راز تھے جو بتائے گئے تمہیں پر تم نے اُن سے کچھ بھی اٹھایا نہ فائدہ منہ پھیر کر ہٹا دیا تم نے یہ مائدہ بخلوں سے یارو باز بھی آؤ گے یا نہیں خو اپنی پاک صاف بناؤ گے یا نہیں باطل سے میل دل کی بٹاؤ گے یا نہیں حق کی طرف رجوع بھی لاؤ گے یا نہیں اب عذر کیا ہے کچھ بھی بتاؤ گے یا نہیں مخفی جو دل میں ہے وہ سناؤ گے یا نہیں آخر خدا کے پاس بھی جاؤ گے یا نہیں اُس وقت اُس کو منہ بھی دکھاؤ گے یا نہیں تم میں سے جس کو دین و دیانت سے ہے پیار اب اُس کا فرض ہے کہ وہ دل کر کے اُستوار لوگوں کو یہ بتائے کہ وقت مسیح ہے اب جنگ اور جہاد حرام اور فتیح ہے ہم اپنا فرض دوستو اب کر چکے ادا اب بھی اگر نہ سمجھو تو سمجھائے گا خدا ☆☆☆