تحفۂ گولڑویہ — Page 66
روحانی خزائن جلد۱۷ ۶۶ ضمیمه تحفه گولر و سیه اس میں خدا کی حکمت تھی مگر افسوس اُن پر جن کے ذریعہ سے یہ حکمت اور مصلحت الہی پوری ہوئی اگر وہ پیدا نہ ہوتے تو اچھا تھا۔ اس قدر الہام تو ہم نے بطور نمونہ کے براہین احمدیہ میں سے لکھے ہیں۔ لیکن اس اکیس برس کے عرصہ میں براہین احمدیہ سے لے کر آج تک میں نے چالیس کتابیں تالیف کی ہیں اور ساٹھ ہزار کے قریب اپنے دعوے کے ثبوت کے متعلق اشتہارات شائع کئے ہیں اور وہ سب میری طرف سے بطور چھوٹے چھوٹے رسالوں کے ہیں اور ان سب میں میری مسلسل طور پر یہ عادت رہی ہے کہ اپنے جدید الہامات ساتھ ساتھ شائع کرتا رہا ہوں۔ اس صورت میں ہر ایک عقلمند سوچ سکتا ہے کہ یہ ایک مدت دراز کا زمانہ ابتدائے دعوئی مامور من اللہ ہونے سے آج تک کیسی شبا روزی سرگرمی سے گذرا ہے اور خدا نے نہ صرف اس وقت تک مجھے زندگی بخشی بلکہ ان تالیفات کے لئے صحت بخشی مال عطا کیا وقت عنایت فرمایا۔ اور الہامات میں خدا تعالیٰ کی مجھ سے یہ عادت نہیں کہ صرف معمولی مکالمہ الہیہ ہو بلکہ اکثر الہامات میرے پیشگوئیوں سے بھرے ہوئے ہیں اور دشمنوں کے بد ارادوں کا اُن میں جواب ہے۔ مثلاً چونکہ خدا تعالیٰ جانتا تھا کہ دشمن میری موت کی تمنا کریں گے تا یہ نتیجہ نکا لیں کہ جھوٹا تھا تبھی جلد مر گیا اس لئے پہلے ہی سے اُس نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا۔ ثمانين حولا او قریبًا من | ذالک او تزيد عليه سنینا و ترای نسلا بعیدا یعنی تیری عمر انشی برس کی ہوگی یا دو چار کم یا چند سال زیادہ اور تو اس قدر عمر پائے گا کہ ایک دُور کی نسل کو دیکھ لے گا اور یہ الہام قریباً پینتیس برس سے ہو چکا ہے اور لاکھوں انسانوں میں شائع کیا گیا ۔ ایسا ہی چونکہ خدا تعالیٰ جانتا تھا کہ دشمن یہ بھی تمنا کریں گے کہ یہ شخص جھوٹوں کی طرح مہجور اور مخذول رہے اور زمین ۲۰) پر اُس کی قبولیت پیدا نہ ہوتا یہ نتیجہ نکال سکیں کہ وہ قبولیت جو صادقین کے لئے شرط ہے اور اُن کے لئے آسمان سے نازل ہوتی ہے اس شخص کو نہیں دی گئی لہذا اس نے پہلے سے براہین احمدیہ میں فرما دیا۔ ینصرک رجال نوحى اليهم من السماء۔ ياتون من |